تقدیر کی فتنہ سازی کب ، تدبیر کے بس کی ہوتی ہے
بنیادِ نشیمن رکھتا ہوں ، تعمیر قفس کی ہوتی ہے
معلیٰ
بنیادِ نشیمن رکھتا ہوں ، تعمیر قفس کی ہوتی ہے
کہاں تک اب بھلا ہم روز شاخِ آشیاں بدلیں عجب کیا ہے کہ اب کچھ ہم قفس صیاد بن جائیں قفس والوں سے یہ کہہ دو کہ اندازِ فغاں بدلیں