خالق دو جہاں جن کا ہے مدح خواں

ان کے اوصاف ممکن نہیں ہوں بیاں عرش سے فرش تک فرش سے عرش تک ساری مخلق میں آپ سا ہے کہاں فکرِ امت رہی عمر بھر آپ کو آپ امت پہ ہیں کس قدر مہرباں تاجدارِ حرم کا ہے فیضان سب ظلمتیں مٹ گئیں ہے منور جہاں شافعِ حشر ہیں آپ ہی وارثیؔ عاصی […]

کہہ دو کوئی اُن سا تہِ افلاک نہیں ہے

کونین میں مثلِ شہِ لولاک نہیں ہے جو عاشق و شیدائی ہے محبوبِ خدا کا مشکل کوئی اس کے لیے غمناک نہیں ہے اوصاف حمیدہ کا ترے کس سے بیاں ہو ایسا تو کوئی صاحبِ ادراک نہیں ہے ایمان ہے آقا کی شفاعت کا سرِ حشر مومن کو یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے […]

آ جاؤ چلیں ہم بھی حضرات مدینے میں

مل جائے گی ہم کو بھی خیرات مدینے میں ممکن ہی نہیں ان کو لفظوں میں بیاں کرنا جو ہم نے گزاری ہیں ساعات مدینے میں لے جائے مقدر گر مجھ کو درِ اقدس پر مکہ میں گزاروں دن اور رات مدینے میں ارماں ہے یہ مدت سے ہو اذن حضور ی کا مدحت میں […]

دیدار کی چاہت ہے در پر ترے لے آئی

ہے چشمِ طلب آقا درشن کی تمنائی جائے گا کہاں چھوڑ کے دہلیز تری آقا قسمت تری دہلیز پہ اک بار جسے لائی کیوں رشک نہ ہو اس کو قسمت پہ اسے اپنی ہو نعت نبی لب پر محفل ہو یا تنہائی قرباں دل و جان سے ہے آقا پہ جو انسان نادان سمجھتے ہیں […]

کروں میں کس سے غم دل بیاں مرے آقا

نہیں ہے سر پہ کوئی سائباں مرے آقا اگر ہو اذنِ حضوری تو آ کے قدموں میں نثار کر دوں میں دل اور جاں مرے آقا تڑپ رہے ہیں گنہگار خوف عصیاں سے نہ جانے کوئی غمِ عاصیاں مرے آقا سجی ہے بزم شہِ دوسریٰ کی مدحت میں ترے کرم سے ہیں ہم مدح خواں […]

یوں بھی تو اپنی چشم کو بینا کرے کوئی

خاکِ مدینہ آنکھ کا سرمہ کرے کوئی دیدارِ مصطفیٰ کی تمنا نہیں اگر اس زندگی کی کاہے تمنا کرے کوئی جس کو بلا لیں در پہ مدینے کے تاجدار پھر چھوڑنے کا کیوں بھلا سوچا کرے کوئی محبوب کبریا کی شفاعت ملی جسے کیسے کسی کو اور مسیحا کرے کوئی لب پر درودِ پاک اور […]

کرے مدحت وہ آقا کی جسے ان سے عقیدت ہے

ثنا خوانی کرے گا کیا جسے جنت کی چاہت ہے کرم مالک کا ہے جس نے بنایا امتی ان کا جنہیں امت ہے پیاری اور ہر دم فکرِ امت ہے مہِ میلاد آیا لے کے خوشیاں اپنے دامن میں منائیں جشن مل کر آپ کا یوم ولادت ہے نسیما ! جانب بطحا گزر ہو گر […]

بے سہارا ہوں سہارا چاہیے

بحرِ عصیاں سے کنارا چاہیے نامۂ اعمال خالی ہے حضور آپ کا بس اک اشارہ چاہیے سب عطائیں آپ کے صدقے ہوئیں پُر خطا کے دل کو یارا چاہیے حاضری کی دل میں آقا ہے تڑپ اذن اس کا اب دوبارہ چاہیے وارثیؔ کو کچھ نہیں درکار اب میرے مالک تیرا پیارا چاہیے

بن اِذن کوئی کس طرح اس در پہ جا سکے

بار دگر مَلَک بھی نہ جس در پہ جا سکے آیا ہوں در پہ آپ کے میں اس یقیں کے ساتھ اک یہ ہی در ہے جو مری بگڑی بنا سکے قربانیٔ حسینؓ بہت بے مثال ہے ہے کون اس طرح سے جو کنبہ لٹا سکے ڈھونڈے سے بھی ملے گا کہاں آپ سا حسینؓ […]

زمین پر رحمت حق کی وہ ساعت خوشگوار آئی

لیے دامن میں اپنے رحمتِ پروردگار آئی منور ہو گیا سارا جہاں میلادِ آقا پر ہوئے بت سرنگوں کعبہ میں اک تازہ بہار آئی زمانے کے ستم سہنے کی ہمت کب تھی عامی میں مرے آقا کی رحمت بن کے ایسے میں حصار آئی ہوا حاصل شرف جب حاضری کا آپ کے در پر رہے […]