سائے میں کبھی اور کبھی دھوپ میں دیکھا
میں نے اسے ہر رنگ میں ہر روپ میں دیکھا
معلیٰ
میں نے اسے ہر رنگ میں ہر روپ میں دیکھا
الفاظ نے پہن لیے معنی نئے نئے
چشموں کا رنگ و بو کا بہاروں کا شوق ہے انسانیت کے رِستے ہوئے زخم چھوڑ کر دانشوروں کو چاند ستاروں کا شوق ہے ہستی کی تلخیاں جو گوارا نہ ہو سکیں زندوں سے ہے نفور ، مزاروں کا شوق ہے
کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا