اہلِ جنوں نے ریت گلا کر جب شیشہ تیار کیا
اہلِ خرد سے کچھ نہ بنا ، تو پتھر لے کر دوڑ پڑے
معلیٰ
اہلِ خرد سے کچھ نہ بنا ، تو پتھر لے کر دوڑ پڑے
اپنے اسلاف کے قدموں کے نشاں ڈھونڈتا ہوں
اک دھند کا پھیلا ہے جہاں نظروں میں کس دشتِ بلا سے ہوں گذر کر آیا ہے ریت کا دریا سا رواں نظروں میں
میں موج نہیں ہوں کہ گذر جاؤں گا انسان ہوں آؤ مجھے چھو کر دیکھو میں ریت نہیں ہوں کہ بکھر جاؤں گا