ہوائے تند غبارِ سحر کو چاٹ گئی
فصیلِ شب پہ چمکتا رہا ، لکھا میرا
معلیٰ
فصیلِ شب پہ چمکتا رہا ، لکھا میرا
مانگے ہوئے اُجالے نقیبِ سحر نہ تھے
شاید مری دنیا میں چمکے گا نیا سورج
آج کی رات ذرا ذکرِ سحر کر
یہ ہے پیرِ مغاں کا آخری پیغام اے یارو نہ یہ شام و سحر ہو گی ، نہ باقی روز و شب ہوں گے کہ پیچھے چھوڑ دیں گے گردشِ ایام اے یارو
اب تم سے ملاقات نہیں ہو سکتی ہم اور کریں شام و سحر کی بیعت گر کر تو کبھی بات نہیں ہو سکتی
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں