بچا کے رکھیے گا آئینۂ جنوں نجمیؔ
خرد ہے سنگ بداماں نہ جانے کب کیا ہو
معلیٰ
خرد ہے سنگ بداماں نہ جانے کب کیا ہو
سُن کے آئے تھے یہاں لعل و گُہر ملتے ہیں
یہ کام بھی خاصانِ حرم کرتے رہیں گے ہم دل کے مہکتے ہوئے زخموں کے سہارے تاریخ تبسم کی رقم کرتے رہیں گے
سنگ ساروں سے کہو ، مشقِ ستم فرمائیں