عدم بھی ہو مرا ، میری دعا کے سائے میں
میں حشر میں بھی اٹھوں مصطفیٰ کے سائے میں
معلیٰ
میں حشر میں بھی اٹھوں مصطفیٰ کے سائے میں
ہے دھوپ اگر تیز تو سائے بھی گھنے ہیں
کھڑکی سے تو بھی گھر میں مرے آ رہی ہے دھوپ
میں نے اسے ہر رنگ میں ہر روپ میں دیکھا
بیٹھیں کہاں کہ سایۂ دیوار بھی نہیں
جس پہ سایہ ہے تیرے کوچے کی دیواروں کا