تارِ مژگاں پہ ہم تیری یادوں کے جُگنو پرونے لگے
شام ڈھلنے لگی ، درد بڑھنے لگا ، شعر ہونے لگے
معلیٰ
شام ڈھلنے لگی ، درد بڑھنے لگا ، شعر ہونے لگے
کچھ دے دلا کے حال کو ماضی بنا دیا
ستم گر حیلہ جُو اب تو یہ صبح و شام رہنے دے
دِیا جلانے کا مطلب ہے شام ہو چکی ہے
یہ ہے پیرِ مغاں کا آخری پیغام اے یارو نہ یہ شام و سحر ہو گی ، نہ باقی روز و شب ہوں گے کہ پیچھے چھوڑ دیں گے گردشِ ایام اے یارو
شب ابھی آئی نہیں ، شام ابھی باقی ہے
اب تم سے ملاقات نہیں ہو سکتی ہم اور کریں شام و سحر کی بیعت گر کر تو کبھی بات نہیں ہو سکتی
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
بس ایک شام منانی تھی آفتاب کے ساتھ
وہ رات ہے ، مجھے خوابوں میں آ کے ملتی ہے