ہوائے تند غبارِ سحر کو چاٹ گئی
فصیلِ شب پہ چمکتا رہا ، لکھا میرا
معلیٰ
فصیلِ شب پہ چمکتا رہا ، لکھا میرا
اک سلسلۂ شب کی گرانی سے ملا ہے
صبحِ بہار کے لیے شرطِ شب دراز ہے
لیکن کِسی کو خـــــواب چُرانے نہیں دِیا
یہ ہے پیرِ مغاں کا آخری پیغام اے یارو نہ یہ شام و سحر ہو گی ، نہ باقی روز و شب ہوں گے کہ پیچھے چھوڑ دیں گے گردشِ ایام اے یارو
شب ابھی آئی نہیں ، شام ابھی باقی ہے
سامانِ وحشتِ دلِ بیتاب آ ہی گیا
اب کسی شب کی حمایت نہیں کی جائے گی