چار شعروں کی مار ہے وہ شخص
لیکن اب میرا جی نہیں کرتا
معلیٰ
لیکن اب میرا جی نہیں کرتا
شام ڈھلنے لگی ، درد بڑھنے لگا ، شعر ہونے لگے
وہاں شاعر نے پورا شعر اس منظر پہ لکھا ہے
شاعر ہوں مجھ کو شعر و سخن میں کمال دے اس کے سوا نہیں ہے طلب کچھ سکون کی اک آگہی جو قلب و نظر کو اجال دے
ظفر علی سے اسے نسبتِ مریداں ہے
الفاظ نے پہن لیے معنی نئے نئے
چل پڑا ہوں میں کوئی شعر کمانے کےلیے