میں نے اسے سنوارا ہے جتنا بھی ہو سکا
اب زندگی کو مجھ سے شکایت نہیں رہی
معلیٰ
اب زندگی کو مجھ سے شکایت نہیں رہی
ساحرؔ کو زمانے سے شکایت بھی بہت ہے
نہ حکایت کبھی ایسی نہ شکایت اتنی تیرِ مژگاں بھی کبھی اُن کو پہونچنے نہ دیا گو خود ہی سے ہے آنکھوں کو محبت اتنی