گرتی ہے تو گر جائے یہ دیوارِ سکوں بھی
جینے کے لیے چاہیے تھوڑا سا جنوں بھی
معلیٰ
جینے کے لیے چاہیے تھوڑا سا جنوں بھی
جُدا ہوا ہے کوئی جیسے عمر بھر کے لیے
شاعر ہوں مجھ کو شعر و سخن میں کمال دے اس کے سوا نہیں ہے طلب کچھ سکون کی اک آگہی جو قلب و نظر کو اجال دے
تڑپ بڑھ کر میری وجہِ سکون دل نہ بن جائے
سکونِ دل نہ ہوا میسر زمانے میں نصیر ،زیست بڑی بے قرار گزری ہے
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے