تقدیر کی فتنہ سازی کب ، تدبیر کے بس کی ہوتی ہے
بنیادِ نشیمن رکھتا ہوں ، تعمیر قفس کی ہوتی ہے
معلیٰ
بنیادِ نشیمن رکھتا ہوں ، تعمیر قفس کی ہوتی ہے
اب نہ دشمن کا ڈھونڈو کرم ساتھیو منحصر ہے یہ دنیا جو اسباب پر سب ہی اسباب ہوں گے بہم ساتھیو
یہ بھی حسؔرت! کوئی تدبیرِ سُکوں ہے، کیا خُوب دِلِ بے تاب سے کہتے ہو، اُنھیں یاد نہ کر