جیسے غزلوں میں شامل ہو ہر پڑھنے والے کی سوچ
یہ فانوس مظفرؔ صاحب کیا کیا رنگ بدلتے ہیں
معلیٰ
یہ فانوس مظفرؔ صاحب کیا کیا رنگ بدلتے ہیں
ہمت چور ، ڈگر انجانی ، ڈگمگ پاؤں ، پھسلتی ریت
ہیرا ہیں مگر غم کی انگوٹھی میں جڑے ہیں
کھل گئے پھول لفافے پہ ترے نام کے گرد رقص کرتا ہے قلم زیر و زبر میں کیسے
وہ کبھی ناؤ تھی دریا لیے جاتا ہے جسے تیرا سایہ ہے لرزتا ہے جسے دیکھ کے تو اور آئینہ ہے ، تو یہ آنکھ دکھاتا ہے جسے باغباں بھی ہے یہی وقت یہی گل چیں بھی توڑ لیتا ہے وہی پھول اُگاتا ہے جسے ساری ہستی پہ نہ لے آئے وہ آفت کوئی کون […]
اٹھو کہ وقت یہی ہے ستارے توڑنے کا خود اپنے آپ کو پایاب کرتی رہتی ہے عجب جنوں ہے ندی کو کنارے توڑنے کا
کھٹے میٹھے تازہ تازہ میرے شعر
یوں سب کو مٹی ہونا ہے عالم کیا اور جاہل کیا
شعلہ ہوں مگر آنکھوں کو نم رکھتا ہوں دنیا مرے زخموں پہ چھڑکتی ہے نمک مجبور ہوں کاغذ پہ قلم رکھتا ہوں
اپنے ہونے کا پتہ دیتا جا بے رُخی یوں نہ برت کام کے بعد کچھ نہیں ہے تو دعا دیتا جا چوٹ دینے میں بھی کچھ لگتا ہے تو بھی کچھ نامِ خدا دیتا جا سنگریزوں کا بھی حق ہے تجھ پر خون ، اے آبلہ پا دیتا جا سربلندی تو مری فطرت ہے سر […]