ڈوب جاتا ہے یہاں تیرنا آتا ہے جسے

وہ کبھی ناؤ تھی دریا لیے جاتا ہے جسے تیرا سایہ ہے لرزتا ہے جسے دیکھ کے تو اور آئینہ ہے ، تو یہ آنکھ دکھاتا ہے جسے باغباں بھی ہے یہی وقت یہی گل چیں بھی توڑ لیتا ہے وہی پھول اُگاتا ہے جسے ساری ہستی پہ نہ لے آئے وہ آفت کوئی کون […]

یوں ہی شعلے کو ہوا دیتا جا

اپنے ہونے کا پتہ دیتا جا بے رُخی یوں نہ برت کام کے بعد کچھ نہیں ہے تو دعا دیتا جا چوٹ دینے میں بھی کچھ لگتا ہے تو بھی کچھ نامِ خدا دیتا جا سنگریزوں کا بھی حق ہے تجھ پر خون ، اے آبلہ پا دیتا جا سربلندی تو مری فطرت ہے سر […]