تقدیر کی فتنہ سازی کب ، تدبیر کے بس کی ہوتی ہے
بنیادِ نشیمن رکھتا ہوں ، تعمیر قفس کی ہوتی ہے
معلیٰ
بنیادِ نشیمن رکھتا ہوں ، تعمیر قفس کی ہوتی ہے
اگر مرضی تری اے کاتب تقدیر ایسی ہے بوقتِ ذبح قاتل کا بڑھایا دل یہ کہہ کر کہ تُو قاتل ہے ایسا اور تری شمشیر ایسی ہے
اب نہ دشمن کا ڈھونڈو کرم ساتھیو منحصر ہے یہ دنیا جو اسباب پر سب ہی اسباب ہوں گے بہم ساتھیو