دل ہوا چاک تو آئی یہ جگر سے آواز
ترکشِ ناز میں کیا اور کوئی تیر نہیں
معلیٰ
ترکشِ ناز میں کیا اور کوئی تیر نہیں
نہ حکایت کبھی ایسی نہ شکایت اتنی تیرِ مژگاں بھی کبھی اُن کو پہونچنے نہ دیا گو خود ہی سے ہے آنکھوں کو محبت اتنی
تبدیل اپنے دل کی جگہ کر رہے ہیں ہم