آوارۂ طوفاں کو سنورنا نہیں آتا

ڈوبی ہوئی کشتی کو ابھرنا نہیں آتا ہر گام پہ ہوتا ہے گماں حدِ عدم کا شاید مجھے دنیا سے گزرنا نہیں آتا