مہربانیاں اپنی تم نے تو گِنا ڈالیں
آؤ ہم بھی زخموں کا سلسلہ دکھاتے ہیں
معلیٰ
آؤ ہم بھی زخموں کا سلسلہ دکھاتے ہیں
قاتل کو اپنا زخم دکھانے سے فائدہ
یہ کام بھی خاصانِ حرم کرتے رہیں گے ہم دل کے مہکتے ہوئے زخموں کے سہارے تاریخ تبسم کی رقم کرتے رہیں گے
گلشن کی موجِ رنگ بھی ، صحرا کی گرد بھی
چشموں کا رنگ و بو کا بہاروں کا شوق ہے انسانیت کے رِستے ہوئے زخم چھوڑ کر دانشوروں کو چاند ستاروں کا شوق ہے ہستی کی تلخیاں جو گوارا نہ ہو سکیں زندوں سے ہے نفور ، مزاروں کا شوق ہے
سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے
نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے
ہم اپنے دل میں اسی کو بہار جانتے ہیں
اتنا کھایا نہیں نمک تیرا