وہ بوجھ ہی رہے گا زمانے کے دوش پر
وہ شخص جس کے ہاتھ میں کوئی ہنر نہیں
معلیٰ
وہ شخص جس کے ہاتھ میں کوئی ہنر نہیں
ساحرؔ کو زمانے سے شکایت بھی بہت ہے
بیٹھے ہوئے تھے وہ دلِ خانہ خراب میں
میرا انجام نئے دور کا آغاز بھی ہے
ہمـــارے درمیــــاں شــاید زمانہ آ گیا ہے
خوشا کہ مستی فیضِ جنوں سے چیخ اٹھے یہ ناز طبع بلند بہ زعم خود نگہی زمانہ سازی دنیائے دوں سے چیخ آٹھے
کئی زمانے ہوئے میں خود سے نہیں ملی ہوں
کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ