’’میرے ہر زخمِ جگر سے یہ نکلتی ہے صدا‘‘
تیری اُلفت کی چبھن میں ہے ملی غم کی دوا اپنا غم دے دے مرے سرورِ خوباں ہم کو ’’اے ملیحِ عَرَبی کر دے نمک داں ہم کو‘‘
معلیٰ
تیری اُلفت کی چبھن میں ہے ملی غم کی دوا اپنا غم دے دے مرے سرورِ خوباں ہم کو ’’اے ملیحِ عَرَبی کر دے نمک داں ہم کو‘‘
ظلمتِ مرقد میں روشن ہوں گے بُقعے نوٗر کے زیرِ لب جاری رہے مدحت رسول اللہ کی ’’جلوہ فرما ہو گی جب طلعت رسول اللہ کی‘‘
بروزِ حشر رنج و غم کے طوفاں سے نہ گھبرانا ہے زیبا تاج شاہِ دیں کو اُمّت کی شفاعت کا ’’کبھی تو ہاتھ آ جائے گا دامن اُن کی رحمت کا‘‘
’’ ہے یہ اُمید رضاؔ کو تری رحمت سے شہا‘‘ ہاں ! تری چشمِ عنایت و شفاعت سے شہا نہ ہو حیران سرِ حشر وہ شیدا ہو کر ’’ کیوں ہو زندانیِ دوزخ ترا بندا ہو کر ‘‘
اِس خاک کی اُس خاک میں ہو کاش سمائی جس خاک میں مدفوں شہِ والا ہے ہمارا ’’آباد رضاؔ جس پہ مدینہ ہے ہمارا‘‘
مرحبا رنگ ہے کیا سب سے نرالا تیرا جھوم اٹھا جس نے پیا وصل کا پیالا تیرا اولیا ڈھونڈتے پھرتے ہیں اجالا تیرا واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا جیسے چاہے تری سنتا ہے سناتا ہے تجھے حسبِ تدبیر سلاتا ہے جگاتا ہے تجھے اپنی […]
توڑ کر پھر سے جوڑ دیتے ہیں سیر چشمی جسے نہیں دیتے اس کو ہر شے کی تھوڑ دیتے ہیں ان کی اطاعت کی رہگزاروں پر لاکھ خرچو کروڑ دیتے ہیں پورا پورا حصار میں لے کر اپنے دشمن کو چھوڑ دیتے ہیں یہ بھی ان کے کرم کی صورت ہے جتنی ہوتی ہے لوڑ […]
روشن ترا جمال اے ماہ عجم رہے تو نے عطا کیے ہیں کنیزوں کو تخت و تاج تیرے غلام صاحب جاہ و حشم رہے جب تک جبین دل ترے دل پر جھکی رہی اپنے حضور قیصر و فغفور خم رہے کرتے رہے حکایت مہر و وفا رقم جب تک ہمارے ہاتھ میں لوح و قلم […]
حسرت دید کے سیلاب امڈ آئے ہیں بھیگی بھیگی ہے فضا آج جہان دل کی آنکھ پر کرمک شب تاب امڈ آئے ہیں کون سا ابر کرم غار حرا پر برسا ہر طرف نور کے سیلاب امڈ آئے ہیں شافع روز جزا ، رحمت کل، خیر کثیر کس قدر خیر کے اسباب امڈ آئے ہیں […]
ہے آرزو کہ دل تری چوکھٹ پہ خم رہے عظمت کو ان کی عرش نے جھک جھک کیا سلام جو لوگ تیرے ساتھ رہیں ستم رہے گر فکر ہو تو تیری اطاعت کی فکر ہو گر غم رہے تو تیری محبت کا غم رہے سیرت میں تیری کوئی کہیں پیچ و خم نہ تھا کچھ […]