مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا

حقا کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا جس مسند عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے کیا تاب گزر ہووے تعقل کے قدم کا بستے ہیں ترے سائے میں سب شیخ و برہمن آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دَیر و حَرم کا ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب […]

پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو

جلوہ طراز اِدھر بھی تو ، روح نواز اُدھر بھی تو ایک نگاہ میں‌جلال، ایک نگاہ میں جمال منزل طور پر بھی تو، مسند عرش پر بھی تو عجز و نیاز بندگی تیری نوازشوں سے ہے حاکم ہر دعا بھی تو، بارگہ اثر بھی تو پردہء شب میں‌ ہے نہاں، نورِ سحر میں ہے عیاں […]

تمہیں خبر بھی ھے جو مرتبہ حُسین کا ھے ؟

فُرات چھیننے والو ! خُدا حُسَین کا ھے کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو ثباتِ رسمِ عزا مُعجزہ حُسَین کا ھے ازل سے تا بہ ابد نُور کے نشاں دو ھیں اک آفتاب ھے، اک نقشِ پا حُسَین کا ھے جہاں بھی ذکر ھو، اشکوں کے گُل برستے ھیں یہ احترام نبی کا ھے […]