رحیم و مہرباں میرا خدا ہے
کرم کا سائباں میرا خدا ہے میں تپتی دھوپ میں بھی پرسکوں ہوں ظفرؔ سایہ کناں میرا خدا ہے
معلیٰ
کرم کا سائباں میرا خدا ہے میں تپتی دھوپ میں بھی پرسکوں ہوں ظفرؔ سایہ کناں میرا خدا ہے
نہ شان عالی، نہ عالی بخت مانگو خدا سے بس خدا و مصطفیٰؐ کی محبت ہر گھڑی ہر وقت مانگو
پڑے ہیں ٹھوکروں میں جو، اُنہیں بڑھ کر اُٹھا لو ہیں جو روٹھے ہوئے احباب، تم اُن کو منالو نہیں کوئی بھی جن کا، اُن کو تم اپنا بنا لو
فضاؤں میں، خلاؤں میں، زمین و آسماں میں دلاسہ دے وہی مغموم دل، قلبِ تپاں کو گزر اُس کا ظفرؔ اکثر قلوبِ عاشقاں میں
مرا دل ابرِ رحمت کا ہے ترسا مرے دل میں بھی ہوں تشریف فرما ہوا ہے ذکر کرتے ایک عرصہ
خدا تخلیق کارِ ہر زماں ہے وہ مسجُودِ ملائک، اِنس و جاں ہے ظفرؔ وہ قبلہ گاہِ عاشقاں ہے
سفید احرام بھی واضح نشاں ہے ایک مرکز کا ہیں انساں سب برابرسب مسلماں بھائی بھائی ہیں یہی پیغام دائم جاوداں ہے ایک مرکز کا
ذرا سی آبجو میں، تو ہے بحر بیکراں مولا میں اُڑتا زرد پتا، تو مہکتا گلستاں مولا میں اِک بندۂ عاصی، تو کرم کا سائباں مولا
خدا سارے جہانوں کا خدا ہے خدا معبود مخلوقات کا ہے خدا سب آستانوں کا خدا ہے
کہ رُخ میرا سدا سوئے حرم ہے ظفرؔ خانۂ کعبہ محتشم ہے خمیدہ سر یہاں عرب و عجم ہے