کرم کا آسماں اَلْحَمْدُللہ

وہی دارلاماں اَلْحَمْدُللہ وہی طس ہے طہٰ وہی ہے وہی روح و رواں اَلْحَمْدُللہ وہی مالک وہی عالم کا سلطاں ہمارا حکمراں اَلْحَمْدُللہ کلام اللہ ہمارے واسطے لائے امامِ مرسلاں اَلْحَمْدُللہ سراسر وہ کرم ہے کملی والا کہے ہر دم لساں اَلْحَمْدُللہ وہی رحم و کرم کا اک ہے محور کرم ہے لا گماں اَلْحَمْدُللہ […]

قرآن سے پاتے ہیں کیا خوب یہ دانائی

’’جآوٗکَ‘‘ پڑھا جب سے، عُشاق کی بن آئی اقرار گناہوں کا کرتے ہوئے روتے ہیں کہتے ہیں ’سیہ کاری‘ روضے پہ تو لے آئی! دربارِ رسالت سے پاتے ہیں تسلی وہ آتے ہیں یہاں جو بھی بخشش کے تمنائی! ہوں عفو طلب عاصی، آقا بھی یہی چاہیں! تن رَبّ کی طرف سے یوں ہوتی ہے […]

طالب دنیا جو دو دل منفصل ہو جائیں گے!

دین سے پیوستہ ہو کر ایک دل ہو جائیں گے! یعنی جو افراد ہوں گے دشمنی میں دور دور پیرویٔ مصطفی ﷺ سے متصل ہو جائیں گے! آخرش مٹ جائیں گی ساری ہی آوازیں مگر مدحتِ آقا ﷺ کے نغمے مستقل ہو جائیں گے! شاد ہوں گے دامنِ ختم الرسل تھا میں گے جو جو […]

حسن و جمالِ اُسوۂ آقا ﷺ پہ ہو نظر!

زِنہار دھیان ہو نہ قریب و بعید کا کر ان کا ذکر اور سنا کر انہی کی بات مقصود ہو فقط یہی گفت و شنید کا افسانیہ سنیے یار کا ذکر اس کا کیجیے مقصود ہے یہی مری گفت و شنید کا (کلیات آتشؔ۔ ص ۳۰۰) ہفتہ : ۹؍ ذیقعدہ ۱۴۲۹ھ…۸؍ نومبر ۲۰۰۸ء

نبی ﷺ پہ کتنا کرم رَبِّ ذوالجلال کا ہے

کہ جو بھی وصف ہے اُن ﷺ کا بڑے کمال کا ہے کھلے ہیں پھول جہاں بھی حسین سیرت کے تمام عکس اُسی حسنِ لازوال کا ہے جو زخم دل کو ملے ہیں فراقِ طیبہ میں ضرور وقت کوئی اُن کے اِندمال کا ہے حضور ﷺ! اِذنِ حضوری اِسے بھی مل جائے شکستہ پا کو […]

وہ رَبّ ہے

وہ، علم جس کا محیطِ کل ہے اسی کی قدرت،کہ بس ارادہ کرے تو ہر شے وجود پا لے اُسی کی آیات ذرّے ذرّے میں اپنا جلوہ دکھا رہی ہیں ہوائوں سے مل کے اس کے نغمے سبھی فضائیں سنا رہی ہیں میں اس کی قدرت کے کارخانے میں چشمِ حیراں کے ساتھ آیا تو […]

حمد اس کی کروں!

حمد اس کی کروں! حرف جس نے سکھائے ثنا کے لیے حمد اس کی کروں! جس نے پیدا کیے یہ زمیں آسماں کارواں کارواں روشنی بخش کر جس نے انساں کو شوقِ عبادت دیا وہ کہ جس کی طرف خود بخود سر جھکے خود بخود دل کھنچے خود بخود روح کا کارواں چل پڑے حمد […]

لگا لُعابِ دہن جب علیؓ کی آنکھوں میں

(منقبت: فاتحِ خیبر سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) لگا لُعابِ دہن جب علیؓ کی آنکھوں میں شجاعتوں کی عجب داستاں رقم کر دی علیؓ نے دین کا پرچم بلند فرما کر وغا میں عدل کی تاریخ محترم کر دی ہو معرفت، کہ بصیرت، وہ فقر ہو کہ غِنا علیؓ کی ذات میں یکجا ہیں […]