اسمِ عظیمِ سیّدِ امجد عطا ہوا
آدم کے دِل کو نسخۂ احمد عطا ہوا دنیا کے پہلے شخص کو ابجد عطا ہوا سازِ ازل کو نغمۂ سرمد عطا ہوا پرکارِ جاں کو نقطۂ محور دیا گیا آئینۂ خیال کو جوہر دیا گیا
معلیٰ
آدم کے دِل کو نسخۂ احمد عطا ہوا دنیا کے پہلے شخص کو ابجد عطا ہوا سازِ ازل کو نغمۂ سرمد عطا ہوا پرکارِ جاں کو نقطۂ محور دیا گیا آئینۂ خیال کو جوہر دیا گیا
اے خالقِ مکین و مکاں ربِّ ذوالجلال ہے نام جس کا عرش پہ موضوعِ ہر مقال تنزیل مجھ پہ بھی ہو وہی اسمِ ذِی جمال یہ نام شاخِ ذہن پہ مانندِ گُل، رہے آدم شریکِ امّتِ ختم الرُّسل رہے
مانا نہ قدسیوں کے امامِ رذیل نے سَرکش بنا دیا اُسے ذہنِ علیل نے مغرور کر دیا اُسے علمِ دلیل نے تب ہر نگاہ میں اُسے بَد کر دیا گیا شامِ ابد تلک اُسے رَد کر دیا گیا
تری جالی دے نال پلکاں نوں لاواں میں رب دے کولوں منگاں ایہہ دعاواں سدا رہون سرتے ایہہ ٹھنڈیاں چھاواں مری اکھیاں اتھرو تے جھکیاں نگاہواں دل کردا دھک دھک تے اوکھیاں سانواں میں روواں چیخاں تے کُرلاواں کوئی ہور نہ میرا میں کدھر جاواں جی کردا میرا میں مڑ مڑ آواں کتھے لبھن وارثیؔ […]
ممکن نہیں ہے اس کو بھی رنج و ملال ہو قربت میں آ کے آپ کی بے کس سا اک غلام خلقت میں وہ غلام بلالِ کمال ہو لب پر درودِ پاک اور چشم اشک بار کیوں لطفِ حاضری نہ بھلا بے مثال ہو عصیاں کا بوجھ لایا ہوں محبوب کبریا جس در پہ ہر […]
’’کامیابی کی دلالت ہے شریعت آپ کی‘‘ اہلِ زر کے سارے حربے ظلم کی ہیں داستاں دردِ دل کی ہے ضمانت تو محبت آپ کی کون سمجھائے پریشاں حال مسلم کو یہ بات دو جہانوں کے لیے ہے آقا رحمت آپ کی کیوں بھٹکتے پھر رہے ہیں آج مسلم در بدر ترک کر کے بے […]
آقائے نامدار کی امت کی بات کر ٹکڑوں میں بٹ کے قوم کو رسوائیاں ملیں طاقت سمیٹ قوم کی وحدت کی بات کر دل میں ہے تیرے قرب خدا کی جو آرزو خلق خدا کی چاہت و خدمت کی بات کر صدق و صفا میں ثانی نہیں جس کا دہر میں بوبکرؓ کی تو صدق […]
لے کے دامن کبھی نہ خالی گیا اُن کے ٹکڑوں پہ سارا زمانہ پلے ایک میں ہی نہیں لا ابالی گیا عظمتیں دو جہاں کی مقدر ہوئیں قرب میں جو مرے شاہِ عالی گیا اُن کی مدحت کروں میری اوقات کیا دست بستہ جہاں شیخؔ و حالیؔ گیا اپنی قسمت پہ نازاں بھلا کیوں نہ […]
رب کے کرم سے زیست میں سب کچھ عطا ہوا پہنچا درِ حبیب پہ جس دم یہ خاکسار نازاں نصیب پر یہ بہت پر خطا ہوا نظریں ہوئیں جو گنبد خضریٰ سے ہم کلام نظریں ہٹیں وہاں سے کسے حوصلہ ہوا اشکِ رواں نے کردیا اظہارِ حالِ دل گرچہ زباں سے لفظ نہ کوئی ادا […]
ملتا ہے فیض ان کو ہمیشہ پکار پر ہم ہی نہیں ہیں کرتے ثنائے حبیبِ پاک ہے حکم رب درود پڑھو تاج دار پر جیون گزارا جن نے غلامی میں آپ کی جلتے سدا چراغ ہیں ان کے مزار پر تڑپت ہے پیش کرنے کو اک بار پھر سلام کیجے کرم حضور دلِ بیقرار پر […]