یہ قرعۂ افتخار یثرب کے نام نکلا

وداع کی گھاٹیوں سے ماہِ تمام نکلا زمین ماں ہی نہیں ہے،خود بھی صحابیہ ہے یہ رشتہ دو نسبتوں سے ذوالاحترام نکلا جو ان پہ اترا، بشر سے ممکن کہاں تھا لیکن خود ان کے لب سے بھی کیسا کیسا کلام نکلا یہ لوگ دیں پر نہیں اُن آباء پہ مفتخِر ہیں کہ جن کا […]

ہے تصور میں عہدِ نبی سامنے، اس زمانے کے پل جگمگاتے ہوئے

آنکھ کے سامنے ہیں مناظر بہت، چلتے پھرتے ہوئے، آتے جاتے ہوئے ایک چادر کو تھامے ہوئے ہیں سبھی ، چاہتے ہیں سبھی آپ سے منصفی آپ کے دستِ فیصل میں سنگِ سیہ سب قبیلوں کا جھگڑا مٹاتے ہوئے عتبہ ابن ربیعہ ہے بیٹھا ہوا ،صحنِ کعبہ میں ہاتھوں کو ٹیکے ہوئے اور نبی اس […]

رواں ہے کاروانِ رنگ و بُو سرکار کے دم سے

دو عالم کی رگوں میں ہے لہو سرکار کے دم سے من و تو کی ہے گنجائش کہاں، سب کچھ اُنھی سے ہے کہ میں سرکار کے دم سے ہوں، تو سرکار کے دم سے مرے آئینہِ دل میں ہے عکسِ ذات ضو افگن میں ہوں ہر دم خدا کے رُوبرُو سرکار کے دم سے […]

آرزوئے دید میں آخر اثر اتنا تو ہو

وادیٔ بطحا میں جا پہنچے بشر ، اتنا تو ہو سرنِگوں ہوں اُن کے آگے کج کلاہانِ جہاں شاہ دیں کے خادموں کا کرّوفر اتنا تو ہو ذکرِ آقا میں خیال آئے جُونہی اعمال کا آستیں اشکِ ندامت سے ہو تر ، اتنا تو ہو نزع کی حالت میں میرے لب پہ ہو نامِ حضور […]

جس کی نظروں میں زرِ پائے پیمبر چمکے

سامنے اُس کے نہ گنجینۂ گوہر چمکے بخت ذرّے کے جو یاور ہوں ، عرب تک پہنچے خاکِ طیبہ سے لگے، مہر سے بڑھ کر چمکے رُوبُرو گنبدِ خَضرا کے پہنچ جاؤں اگر مجھ زیاں کار کا بھی نقشِ مقدّر چمکے ذہن میں دشتِ مدینہ کا تصوّر آیا پُھول اُلفت کے مِری شاخِ نظر پر […]

لب پہ ہے ذکر آپ کا با چشمِ نم شاہِ امم

آپ کا شاعر ہے محتاجِ کرم شاہِ امم میری نظروں میں شہنشاہانِ عالم ہیچ ہیں آپ کی مدحت میں چلتا ہے قلم شاہِ امم اِدّعا اِنفاس کا ہے آپ کا ذکرِ حسیں نعت گوئی ہے مرا حُسنِ رقم شاہِ امم آپ کی اُلفت کی قلب و رُوح میں گر ضو نہ ہو ہے مرا موجود […]

میرا فکر و فن نبی کے ذکر تک محدُود ہے

خالقِ کونین کا مجھ پر کرم ہے ، جُود ہے حُبِّ پیغمبر پہ ہے حبِّ خدا کا انحصار میرے آقا کی اطاعت ، طاعتِ معبُود ہے شرطِ ایماں ہے کہ اقرارِ رسالت بھی کرو صرف اقرارِ الُوہیت یہاں بے سُود ہے ہم زمانے میں رہیں گے خستہ حال و خوار و زار پیروی سیرت کی […]

بادۂ عشقِ پیمبر چاہیے

یہ نشہ ہم کو برابر چاہیے گوھرِ دیدار گر درکار ہو گوشۂ چشمِ غمیں تر چاہیے کرب سے نِکھرے گا اور اُن کا خیال دل کے آئینے کو جوہر چاہیے اُن کے در پر حاضری کے واسطے الفت و اخلاص کا زر چاہیے زائرو! ذکرِ حرم کرتے رہو کچھ علاجِ قلبِ مضطر چاہیے دشمنِ جاں […]

محمد مصطفی، خیر البشر ، محبوبِ داور ہے

محمد مصطفی ، خیر البشر ، محبوبِ داور ہے شرافت ، حِلم ، ایثار و سخاوت کا وہ پیکر ہے فدا اس پر مرے ماں باپ ، جو ہے رحمتِ عالم مرا آقا ہے مخلوقِ خدا کا محسنِ اعظم محبت اور اخوّت کی ہمیں تعلیم دی جس نے رواداری کا برتاؤ کیا دشمن سے بھی […]

اک انوکھی طرب سے روشن ہے

گنبدِ سبز سب سے روشن ہے حضرتِ جبرائیل کا ماتھا اُن کو معلوم کب سے روشن ہے ہر ستارہ نظامِ شمسی کا اُن کے رخسار و لب سے روشن ہے قوتِ دید اُس نگاہ کی سوچ وہ جو دیدارِ رب سے روشن ہے نقشِ نعلین دل پہ رکھتا ہوں طاقِ دل اُس کی چھب سے […]