سب سے اعلی سب سے پیاری زندگی

سرورِ عالم کی ساری زندگی عشقِ احمد ہے حقیقی زندگی ہے فریبِ چشم باقی زندگی ان کی صورت نے سنوارے صبح و شام ان کی سیرت نے سنواری زندگی شہرِ طیبہ کے در و دیوار پر زندگی ہے صرف طاری زندگی گنبدِ خضریٰ کے سائے میں سکون چاہتی ہے غم کی ماری زندگی چاہتا ہے […]

ہوک اٹھتی ہے میرے سینے سے

لوٹ آیا ہوں کیوں مدینے سے ہم مدینے سے دور رہ کر جیئں مرنا بہتر ہے ایسے جینے سے پاس بلوایا روضہ دکھلایا اس قدر پیار مجھ کمینے سے گزرے جاتی ان کی یادوں میں زندگانی بڑے قرینے سے ان کی توصیف میں حروفِ سخن جس طرح ہوں جڑے نگینے سے حبِ آلِ نبی کو […]

حضور آپ کی خونی قبائیں کیا کہنے

مگر لبوں پہ مسلسل دعائیں کیا کہنے شگوفہ کار ہے ہر شاخِ آرزو میری نبی کے شہر کی ٹھنڈی ہوائیں کیا کہنے مدینے شہر کی آب و ہوا ہے عطر آگیں سکونِ قلب کا باعث فضائیں کیا کہنے نظارے جان لٹاتے ہیں سبز جنبد پر وہ رنگ و نور میں لپٹی فضائیں کیا کہنے جمی […]

دیارِ طیبہ کے ہم دیکھتے رہے

بے اختیار آنکھوں میں نم دیکھتے رہے پر نور ساعتیں تھیں وہ پر کیف روز و شب سردارِ دو جہاں کا کرم دیکھتے رہے ان کی لحد کو دیکھ نہ پایا اگرچہ میں لیکن مجھے شفیعِ امم دیکھتے رہے جنت کا در بقیع کی صورت کھلا رہا رنگوں میں ڈھلتی شام الم دیکھتے رہے نظریں […]

یا نبی آپ کی دہلیز پہ آئے ہوئے ہیں

درد کے مارے ہیں دنیا کے ستائے ہوئے ہیں نعت کا پیڑ تخیل کو بنائے ہوئے ہیں ہم خیالات کے گل پھول اگائے ہوئے ہیں ان کے اصحاب کی تکریم ہے واجب ہم پر کیونکہ وہ سارے محمد کے پڑھائے ہوئے ہیں خود انھیں دیکھتے سنتے ہیں رسولِ عربی لب پہ گل ہائے عقیدت جو […]

جب تلاطم میں کبھی اپنا سفینہ دیکھوں

بہرِ امداد سوئے شہرِ مدینہ دیکھوں یا نبی خواب کو تعبیر کی صورت ہو عطا جاگتی آنکھوں سے میں تیرا مدینہ دیکھوں تیرا دامانِ کرم اتنا کشادہ ہو جائے دامنِ حرف کو محدود کبھی نہ دیکھوں جب اتر جائے خیالِ شہِ والا دل میں متصل فکر سے میں عرش کا زینہ دیکھوں گنگ کو محوِ […]

رفعت جہانِ شعر میں میرے ہنر کی ہے

نوکِ قلم پہ نعت جو خیر البشر کی ہے تصویرِ کعبہ چین ہے میری نگاہ ذکرِ دیار طیبہ بھی ٹھنڈک جگر کی ہے آرائشِ خیال ہے مدحِ رسول پاک جالی نبی کے روضے کی زینت نظر کی ہے رنگ و جمال و نور بھی ہیں اس کے خوشہ چیں کتنی حسین صبح مدینہ نگر کی […]

یادِ صحنِ حرم سنبھال کے رکھ

یعنی ان کا کرم سنبھال کے رکھ اپنی آنکھوں کا نم سنبھال کے رکھ خوفِ ملکِ عدم سنبھال کے رکھ سب کو ملتا ہے یہ کہاں صاحب ہجرِ طیبہ کا غم سنبھال کے رکھ کافی ہے مجھ کوجامِ عشق نبی اپنا تو جامِ جم سنبھال کے رکھ دل کو ذکرِ نبی سے کر سر شار […]

مدینے کی ہوا ہے اور میں ہوں

بہارِ جانفزاں ہے اور میں ہوں قلم ہے رات کا پچھلا پہر ہے خیالِ مصطفیٰ ہے اور میں ہوں مرا مدفن بنے شہر مدینہ یہی لب پر دعا ہے اور میں ہوں مری جھولی میں ہے دولت سخن کی تصور میں خدا ہے اور میں ہوں نہیں ہے آب و دانہ کی ضرورت درودوں کی […]