نبی کے عشق سے کیوں روح ہو برگشتہ برگشتہ

بڑھے ہیں جانب طیبہ قدم آہستہ آہستہ مکمل نعت پاک مصطفے قرآن ناطق ہے ہر اک آیت رسول حق سے ہے وابستہ وابستہ سنواے قافلے والو وہ مختار دو عالم میں سلاموں کے گلوں کا لے چلو گلدستہ گلدستہ نبی کے حسن کے آگے کہاں وہ یوسف کنعاں عقیدت مند کہتے ہیں یہی برجستہ برجستہ […]

عرش کے مسند نشیں اور وارث لوح و قلم، شاہ اسم

والی کون و مکاں شاہ عرب شاہ عجم، شاہ اسم جسم کا سایہ نہ ثانی باخدا سب سے جدا نور خدا انبیا کے صف میں بیشک محترم ہیں محترم ، شاہ اسم آدم و یحییٰ زکریا لوط و یونس فجر گل ، ختم الرسل مرحبا صد آفریں صد آفریں حق ذی حشم ، شاہ اسم […]

پیش ہوں گا جب قیامت میں خدا کے سامنے

رو پڑوں گا گِڑگِڑا کر مصطفی کے سامنے جب کبھی شہرِ مدینہ کی مجھے لگتی ہے پیاس آئینہ قسمت مری رکھتی ہے لا کے سامنے روزِ محشر جب گنہگاروں میں ہو گی کھبلی کالی کملی میں چھپا لیں گے وہ آ کے سامنے ہم کو دنیا کے کسی رُتبے کی کچھ پروا نہیں ” سروری […]

راحتِ جاں کہاں سے ملتی ہے

اسی جانِ جہاں سے ملتی ہے جو بھی نعمت ہے دو جہانوں کی ایک ہی آستاں سے ملتی ہے وہ سبھی کے نبی ہیں اس کی سند ہر زمان و مکاں سے ملتی ہے سبز گنبد کی رفعتیں اللہ ایک حد لامکاں سے ملتی ہے اب ہمارے چمن میں ہے وہ بہار جس کی صورت […]

لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں

جب بھی سرکار مرے دھیان میں آ جاتے ہیں ذکر ان کا ہو تو ہر سانس مہک جاتی ہے پھول احساس کے گلدان میں آ جاتے ہیں ہم تعارف کے بھی محتاج نہیں دنیا میں انکی نسبت ہی سے پہچان میں آ جاتے ہیں آنکھ جب چومتی ہے لفظ تو میرے آقا مسکراتے ہوئے قرآن […]

سخنوری نے مدینہ دکھا دیا مجھ کو

مری نجات کا زینہ دکھا دیا مجھ کو وہ جس کو دوش پہ طوفان لے کے چلتے ہیں وہ رحمتوں کا سفینہ دکھا دیا مجھ کو سر اپنا سبطِ محمد نے رکھ کے نیزے پر فرازِ دین کا زینہ دکھا دیا مجھ کو مرے حضور نے بن کر قرآن کی تفسیر عمل سے سارا قرینہ […]

کُفر کی کالی گھٹاؤں کو ہٹانے والے

بُت پرستوں کو نئی راہ دکھانے والے مشعلیں دینِ الہیٰ کی جلانے والے اُس کے صحراؤں کو گلزار بنانے والے بھولے بھٹکے کو راہِ راست پہ لانے والے خوابِ غفلت سے بہر گام جگانے والے اپنے کاندھے پہ یتیموں کو بٹھانے والے اپنے سینے سے غریبوں کو لگانے والے ناتوانوں کی تب و تاب بڑھانے […]

ہر وقت دعائیں ہیں ہر لحظہ مناجاتیں

اُس شاہ سے ہوتی ہیں دن رات یوں ہی باتیں ادنیٰ سے اشارے میں تھے چاند کے دو ٹکڑے اک خاک کے پُتلے میں اور ایسی کراماتیں صحرائے عرب میں جب خورشیدِ حِرا چمکا وحدت کی ضیا پھیلی ، ظلمت کی گھٹی راتیں بلوا لو مدینے میں تم اپنے غلاموں کو مدت سے تمنا ہے […]

مرے سخن میں بھی حرفِ ثبات سا کچھ ہو

غزل بہت ہوئی اب مجھ سے نعت سا کچھ ہو یہ میرا سانسں مرے دل پہ سبز رنگ کرے کہ مجھ میں شہرِ مدینہ کی بات سا کچھ ہو درود پڑھتا ہوں ہونٹوں سے اور یہ سوچتا ہوں روئیں روئیں سے اسی واردات سا کچھ ہو انہیں کا نام لکھا جائے جا بجا مجھ میں […]

تو مری زندگی ہے مری جان ہے

مولا ہر شے تجھ پہ قربان ہے سارے نبیوں میں رتبہ ہے بالا ترا اور سب سے بڑا تو ہی انسان ہے تجھ کو پڑھ کر بسر زندگی ہم نے کی جس کے قاری ہیں ہم تو وہ قرآن ہے تو نے بخشش کی منزل دکھائی ہمیں ترا ممنون ہر اک مسلمان ہے تیرے روضے […]