نعت اُتری درِ اِرم چوما

میم جب جب لکھا قلم چوما ہوں گے نازاں لبانِ روحِ امیں اور کس نے ترا قدم چوما؟ نقشِ نعلین جب بھی چوما ہے یہ قلق ہی رہا ہے کم چوما سُن کے اسمِ نبی انگوٹھوں کو سارے عُشّاق نے بہم چوما لمحہ لمحہ سبھی مناظر نے گنبدِ سبز دم بہ دم چوما سنگِ اسود […]

یم بہ یم صبح و مسا ستر ہزار

قدسیانِ عرش ہیں گِردِ مزار یاوری پر ہے مقدر آج پھر آپ کے در پر کھڑا ہوں اشک بار امن گاہِ خیر ہے بر عاصیاں یہ درِ خیر الورٰی ہے غم گسار محتسب کے ہاتھ ہے فردِ عمل کر نگاہِ عفو میرے کردگار مژدۂ فَلْیَفْرَحُوْا لائے بشیر تھی فضاے دہر ورنہ سوگوار نور آیا ہے […]

مطلعِ نعت ہے سب زورِ بیاں ہے خاموش

دل دھڑکتا ہی نہیں اور زباں ہے خاموش نامۂ زیست خسارہ ہی خسارہ تھا مگر روبہ رو آپ کے ہر ایک زیاں ہے خاموش جوشِ رحمت ہے نرالا سرِ محشر اُن کا جائے وحشت میں جہاں جسمِ اماں ہے خاموش جب سے دیکھا ہے ترے گنبدِ اخضر کی طرف آنکھ پتھرا سی گئی سارا سماں […]

ہم پہ ہو تیری رحمت جَم جَم صلی اللہ علیک و سلم

تیرے ثنا خوان عالم عالم صلی اللہ علیک و سلم ہم ہیں تیرے نام کے لیوا اے دھرتی کے پانی دیوا یہ دھرتی ہے برہم برہم صلی اللہ علیک و سلم تیری رسالت عالم عالم تیری نبوت خاتم خاتم تیری جلالت پرچم پرچم صلی اللہ علیک و سلم دیکھ تری اُمت کی نبضیں ڈوب چکی […]

عزمِ سفر

نقد جاں لے کے چلو دیدۂ تر لے کے چلو گھر سے نکلو تو یہی رختِ سفر لے کے چلو سامنے سرورِ کونین کا دروازہ ہے کوئی تو بات بہ عنوانِ دگر لے کے چلو نعت گوئی کی تمنا ہے تو اس کوچہ میں رومیؔ و جامیؔ و قدسیؔ کا اثر لے کے چلو حُسن […]

کائنات بیکراں میں وقت کے ظلمات میں

کائنات بیکراں میں وقت کے ظلمات میں ہر زمین و آسماں ہر بحر موجودات میں – صدق کے جتنے سفینے بھی خدا کے پاس تھے علم کے جتنے دفینے بھی خدا کے پاس تھے عقل کے جتنے قرینے بھی خدا کے پاس تھے نور کے جتنے نگینے بھی خدا کے پاس تھے دیں کے جتنے […]

اضطرارِ مدینہ

مبارک ہو اے بیقرارِ مدینہ بلاوا ہے یہ اضطرارِ مدینہ ہو طے جلد اے رہگذارِ مدینہ بہت سخت ہے انتظارِ مدینہ الہٰی دکھا دے بہارِ مدینہ کہ دل ہے بہت بیقرارِ مدینہ یہ دل ہو اور انوار کی بارشیں ہوں یہ آنکھیں ہوں اور جلوہ زارِ مدینہ ہوائے مدینہ ہو بالوں کا شانہ ہو آنکھوں […]

وہ جلوہ تھا جو پردوں میں نہاں اب آشکار آیا

انہیں دیکھا تو دنیا کو خدا کا اعتبار آیا ہزاروں حسن لے کر آمنہ کا گلعذار آیا بہ طرزِ رنگ و بو آیا ، بہ عنوانِ بہار آیا گدا بن کر اسی کے در پہ تاج و تخت والے ہیں وہ تاج و تخت کو ٹھکرانے والا تاجدار آیا خزاں کی زد میں تھا باغِ […]

مری جتنی بھی عزّت ہے

شہا تیری بدولت ہے بھلا کیا اختلاف اُن سے نبی سے جن کی نسبت ہے میں کیسے ہار سکتا ہوں مجھے اُن کی حمایت ہے مرے لب پر تری مدحت خدا کی خاص رحمت ہے محمد کے بیانوں میں صداقت ہی صداقت ہے کہاں میں بے نوا شاعر کہاں آقا کی عظمت ہے جمالِ خاکِ […]

اُن سے ملنے کا یقیں دل میں لیے بیٹھے ہیں

اپنی آنکھوں کو بنائے جو دیے بیٹھے ہیں دل میں ہے یادِ نبی اور لبوں پر مدحت کیسا ہم خیر کا سامان کیے بیٹھے ہیں اس لیے اور کسی سمت نظر اُٹھتی نہیں ہم مدینے کے نظارے جو کیے بیٹھے ہیں دلِ مضطر کو لیے یوں ہی نہیں بیٹھے ہم آرزو دل میں مدینے کی […]