ناز کعبہ ہیں، فخر قبلہ ہیں

آپ ارفع ہیں آپ اعلیٰ ہیں آج محسوس ہو رہا ہے مجھے میرے سرکار جلوہ فرما ہیں نقش پائے رسول کے آگے ماہ و انجم کی تابشیں کیا ہیں؟ ابر لطف نبی سے ہوں سیراب جس قدر تشنگی کے صحرا ہیں یہ جبین ازل پہ ہے مرقوم بزم کن میں حضور یکتا ہیں جتنے ذرے […]

مسکرانے کا مہینہ آ گیا

دل سجانے کا مہینہ آ گیا غم کے مارے جھوم کر کہنے لگے غم بھلانے کا مہینہ آ گیا جن کی خاطر ہیں بنے دونوں جہاں اُن کے آنے کا مہینہ آ گیا مرحبا ، صلِّ علیٰ کے ہر طرف گیت گانے کا مہینہ آ گیا نفرتیں ساری بھلا کر دوستو! دل ملانے کا مہینہ […]

انتظار اک واقعے کا اس قدر میں نے کیا

انتظار اک واقعے کا اس قدر میں نے کیا جس نے مجھ کو مستعد رکھا سدا گو کہ میں رو رو کے آخر وقت کی دہلیز پر، تھک ہار کر چپ ہوگیا! میں نصیحت کا تمنائی ہمیشہ ہی رہا ایک کے بعد ایک وصف اُن کا سنا جس دم خدیجہؓ سے (یقیں میرا بڑھا!) اے […]

شرطِ وفا

خزاں کا راج ہے ہر سو مرے خیاباں میں میں اس کی زد میں ہراک پھول ہر شجر دیکھوں گماں یہ ہے کہ مسلسل خزاں ہی پھیلے گی! مگر مجھے تو اُمیدوں کے پھول چننے ہیں مجھے تو سخت مراحل سے اب گزرنا ہے کسیلی شاموں کے کچھ ذائقے بھی چکھنے ہیں زمیں پہ زرد […]

اب اور نہ تڑپاؤ مدینے کی ہواؤ

مجھ کو بھی لیے جاؤ مدینے کی ہواؤ پیغامِ حضوری کو ترستا ہوں میں کب سے کچھ کان میں کہہ جاؤ مدینے کی ہواؤ آقا ہیں جہاں میرے وہ دربار ہے کیسا کچھ تو مجھے بتلاؤ مدینے کی ہواؤ سینے میں بہت آج تڑپتا ہے مرا دل ایسے میں چلی آؤ مدینے کی ہواؤ خوشبو […]

آئینہ بنے گا خود بخود میرا اعتبار کیجیے

عشق سرور مدینہ میں دل کو بیقرار کیجیے آمد رسول پاک کا ذکر بار بار کیجیے جادۂ وفا سجائیے اور مشک بار کیجیے ظلم کی اُڑیں گی دھجیاں رنج کی چھٹیں گی بدلیاں وہ بھی دن ضرور آئے گا تھوڑا انتظار کیجیے ایک لمحہ بھی نہیں سکوں کہتا ہے مرا دلِ حزیں چل کے اب […]

جب یہ سوچا شہ دیں مجھ کو سنبھالے ہوئے ہیں

وادیِ فکر میں یک لخت اجالے ہوئے ہیں پیرہن آتش عصیاں کو بنائے ہوئے ہم مغفرت کے لیے وہ راہ نکالے ہوئے ہیں اس لیے چہرے ہیں اولاد نبی کے روشن اپنے شانوں پہ قبا نور کی ڈالے ہوئے ہیں ان کو بوبکر و عمر کہیے کہ عثمان و علی جتنے کردار ہیں سرکار کے […]

خلوتِ جاں میں بھی عزیزؔہم تو اک انجمن ہوئے

خلوتِ جاں میں بھی عزیزؔ ہم تو اک انجمن ہوئے شہرِ نبی کے ہجر میں دل سے عجب سخن ہوئے داغِ قُروحِ ضبطِ شوق یاد میں جب اُبھر گئے کِھل کے گلاب کی طرح مدحِ نبی کا فن ہوئے شاہِ زمن کی انجمن دھیان میں جب بھی آگئی پھیل کے اشکِ خونِ دل پھول بنے، […]

کاش دیکھوں میں بھی کوئی روشن و بیدار خواب

آمدِ آقا سے بن جائے گل و گلزار خواب جاگتی آنکھوں سے طیبہ دیکھنا اچھا لگا ماہِ طیبہ کے بھی دکھلا دے کبھی انوار خواب اُمِّ معبد نے جو دیکھا دیدۂ بیدار سے اُس جمالِ مصطفی سے ہو کبھی ضَو بار خواب لفظ میں سچائیوں کے رنگ بھر جائیں عزیزؔ جب بھی پائیں شعر کے […]

نعتیہ قصیدہ

(شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے عربی نعتیہ قصیدے کے منتخب اشعار کا آزاد ترجمہ) ۱۔ شبِ تاریک میں تارے چمکتے ایسے لگتے ہیں کہ جیسے اژدہے کی (دونوں) آنکھیں ہوں (اگر کچھ اور سمجھیں ہم تو کہہ دیں) بچھوؤں کے سر ۲۔ مصیبت میں کسی کا دل (غموں) سے بیٹھ جائے تو وہ صحراؤں،بیابانوں (کی […]