نسخۂ فوز و فلاح
آسماں بھی نہ تھا زمیں بھی نہ تھی مہر و ماہ و نجوم کچھ بھی نہ تھے صرف اِک ذاتِ پاک تھی تنہا اُسی لمحے اُسے خیال آیا کوئی دیکھے جمال بھی میرا ہر طرح کا کمال بھی میرا وسعتیں میری کوئی دیکھ سکے قدرتیں میری کوئی جان سکے پھر اُسی وقت رَبِّ اکبر نے […]