نسخۂ فوز و فلاح

آسماں بھی نہ تھا زمیں بھی نہ تھی مہر و ماہ و نجوم کچھ بھی نہ تھے صرف اِک ذاتِ پاک تھی تنہا اُسی لمحے اُسے خیال آیا کوئی دیکھے جمال بھی میرا ہر طرح کا کمال بھی میرا وسعتیں میری کوئی دیکھ سکے قدرتیں میری کوئی جان سکے پھر اُسی وقت رَبِّ اکبر نے […]

طلبِ مغفرت

مرے آقا ! میں حاضر ہو گیا ہوں آپ کے در پر! طلب ہے مغفرت کی معترف میں جرم کا بھی ہوں مرے آقا ! شفاعت میری فرمائیں! مرے اللہ  نے قرآن میں نسخہ بتایا ہے کہ جب بھی (اہلِ ایماں) اپنی جانوں پر کبھی کچھ ظلم کر بیٹھیں تو آجائیں نبی کے پاس رَبّ […]

رب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات

ساری دنیا میں چلے اُسوۂ سرکار کی بات نعتِ سرکار لکھوں اور عمل روشن ہو مدحِ آقا سے بنے سیرت و کردار کی بات ذکرِ اصحابِؓ گرامی بھی ہے مدحت اُن کی نجمؓ کی بات بھی ہے ماہ کے انوار کی بات کاش اخلاص بھی حاصل ہو کبھی لفظوں کو دلِ پاکیزہ کرے عشق کے […]

علوم حضرت آدم سے تا دمِ عیسیٰ

ہر ایک علم مکمل رسولِ اعظم میں نقوشِ لوحِ مقدس بہ خامۂ قدرت سبھی نقوش ہیں علمِ نبیِ خاتم میں نہیں ہے نام و نسب وجہِ شرف دیں کے بغیر یہ راز پنہاں ہے اتقیٰ میں اور اکرم میں چلے تھے سوئے نبی قتل کے ارادے سے قتیلِ عشق ہوئے خود ہی دارِ ارقم میں […]

میرے افکار ہوں محرومِ ضیا ناممکن

وہ سکھائیں نہ مجھے طرزِ ادا، ناممکن سوئے طیبہ درِ دل میں نے کھلا رکھا ہے میرے گھر آئے نہ طیبہ کی ہوا، ناممکن خانۂ دل میں ہیں مہمان رسولِ عربی غیر محرم کوئی آ جائے بھلا، ناممکن صرف ہمت سوئے آں شاہدِ اعظم کر دم بے خیال ان کے ہو سجدہ بھی ادا، ناممکن […]

نبی کی اس قدر مجھ پہ ہوئی رحمت مدینے میں

مجھے تو مل گئی یارو مری جنت مدینے میں پلک بھی کب جھپکتی ہے، کھڑا ہوں در پہ مولا کے گئی جانے کہاں سونے کی وہ عادت، مدینے میں جو سر سجدے میں رکھا پھر کہاں خود سے اٹھا پایا مجھے سجدے میں روکے ہے کوئی طاقت مدینے میں نوازا ہے بہت اب اپنے در […]

رُخِ احمد کو آئینہ بنانے کا خیال آیا

چراغِ بزمِ امکاں کو جلانے کا خیال آیا حریمِ ناز کے پردے اُٹھانے کا خیال آیا خدا کو نور جب اپنا دکھانے کا خیال آیا رُخِ احمد کو آئینہ بنانے کا خیال آیا انہیں کے واسطے پیدا کیا سارے زمانے کو انہیں پر ختم فرمایا زمانے کے فسانے کو سجی بزمِ جہاں محبوب کی عزت […]

لب پہ جب اُن کا نام ہوتا ہے

بات ہوتی ہے کام ہوتا ہے جو نبی کا غلام ہوتا ہے قابلِ احترام ہوتا ہے اُن کا جلوہ تو عام ہوتا ہے آنکھ والوں کا کام ہوتا ہے اُس کے حق میں کلام کیا ہوتا حق سے جو ہمکلام ہوتا ہے تجھ کو جنت مجھے وہ در واعظ اپنا اپنا مقام ہوتا ہے پاس […]

شانِ سرکارِ بطحیٰ بڑی چیز ہے

دونوں عالم کا آقا بڑی چیز ہے میری لوحِ جبیں کی یہ قسمت کہاں اُن کی خاکِ کفِ پا بڑی چیز ہے تاجدارانِ عالم کے کیا مرتبے اُن کی گلیوں کا منگتا بڑی چیز ہے راج والوں کی نعمت کوئی شے نہیں کملی والے کا ٹکڑا بڑی چیز ہے چاند تاروں میں ایسے اُجالے کہاں […]

جنہیں ان کے نظارے ہو گئے ہیں

وہ ذرے چاند تارے ہو گئے ہیں جسے تیرا سہارا مل گیا ہے اُسے کتنے سہارے ہو گئے ہیں تمہارے در کا ٹکڑا اللہ اللہ غریبوں کے گزارے ہو گئے ہیں نہیں ہے جن کا کوئی اس جہاں میں وہ بے کس سب تمہارے ہو گئے ہیں جدھر کو اُٹھ گئی ہیں وہ نگاہیں ادھر […]