حسنِ لاریب محمد کے خد و خال میں ہے

جوہرِ انگبیں سرکار کے اقوال میں ہے اور کچھ خاص نہیں فردِ عمل میں لیکن توشۂ نعت مرے نامۂ اعمال میں ہے زائرینِ درِ سرور یہ بتاتے ہیں ہمیں بارشِ جود و عطا آپ کے افعال میں ہے وہ جو ہے قاسم و مختار و سخی و داتا کرم کی خو بھی اسی سرور و […]

مدحِ سرکار ہے قرآن کی تائید بھی ہے

یہ مرا عشق ہے حسان کی تقلید بھی ہے نعت اک عہد ہے اک عہد کی تجدید بھی ہے روئے قرطاس پہ انوار کی تسوید بھی ہے فردِ اعمال میں اشعار ہیں کچھ مدحت کے عشقِ سرکار کا دامان میں خورشید بھی ہے نعت اور حمد نہ گڈ مڈ ہوں ذرا دھیان رہے دونوں کے […]

یوں مرا قلب مدینے کی طرف جاتا ہے

جیسے بیمار ہے جینے کی طرف جاتا ہے ذکر خوشبو کا جو چلتا ہے سرِ بزمِ وفا دھیان آقا کے پسینے کی طرف جاتا ہے ایسا لگتا ہے مواجہ کی طرف جاتے ہوئے ہر قدم عرش کے زینے کی طرف جاتا ہے چومتی ہے دلِ مضطر کو سفر کی خواہش سال جب حج کے مہینے […]

یا نبی آپ کی چوکھٹ پہ بھکاری آئے

مانگنے رزقِ ثنا نعت لکھاری آئے رُت گُلابوں کی رگِ جاں کو معطر کر دے کُوئے خُوشبُو سے اگر بادِ بہاری آئے کاسۂ چشم لیے بیٹھا ہے اک مدت سے جانے کب تشنۂ دیدار کی باری آئے لکھنے والے ہمیں سرکار کے شیدا لکھیں گفتگو جب سرِ قرطاس ہماری آئے دھڑکنیں دف کے قرینے سے […]

کہکشاؤں کے سحر زیرِ قدم رہتے ہیں

زاویے فکر کے جب سوئے حرم رہتے ہیں شہرِ خوشبو میں ہو دھڑکن پہ ادب کا پہرہ سانس آہستہ، یہاں میرِ امم رہتے ہیں ان کے دربار سے لوٹے ہیں تو حالت یہ ہے ہجر کی گود میں با دیدۂ نم رہتے ہیں طائرِ فکر کا محور ہے فضائے مدحت خدمتِ نعت میں قرطاس و […]

حروفِ زر ناب کا حسیں انتخاب نکلے

حروفِ زرناب کا حسیں انتخاب نکلے مرے کفن سے نعوتِ شہ کی کتاب نکلے وہ قاب قوسین کی حقیقت سمجھ گئے تھے تو ایک اک کر کے درمیاں سے حجاب نکلے پکارا جب بھی رسولِ اکرم کا نامِ نامی سلگتے صحراؤں سے مہکتے گلاب نکلے سفر میں تشنہ لبوں کے جب خشک ہونٹ دیکھے تو […]

شاہِ کونین کی خوشبو سے فضا کیف میں ہے

چھو کے نعلینِ کرم غارِ حرا کیف میں ہے جب سے مانگا ہے شہِ کون و مکاں کا جلوہ لفظ ہیں رقص کناں حرفِ دعا کیف میں ہے ایسے دربار میں پھیلایا ہے دامانِ طلب التجا وجد میں ہے اور صدا کیف میں ہے کر کے آئی ہے ابھی کوئے معطر کا طواف کشتِ نوخیز […]

فلک سے ہے ارفع زمینِ مدینہ

تو کیا ہوگی سوچو جبینِ مدینہ بدن میرا خالی جہاں بھی رہا ہو رہا دل ہمیشہ مکینِ مدینہ قدم چومتا ہوں عقیدت سے ان کے پلٹتے ہیں جب عازمینِ مدینہ تڑپنے لگیں خواہشیں مثلِ بسمل رکا قافلہ جب قرینِ مدینہ کسی غیر کا مجھ پہ احسان کیوں ہو رہا ہوں، رہوں گا رہینِ مدینہ کوئی […]

عزت و عظمتِ شاعری نعت ہے

حرف اور صوت کی زندگی نعت ہے ہے وہ ناعت جو خوش ہے ولادت کی شب آمدِ مصطفیٰ کی خوشی نعت ہے حرفِ مدحت مرے مثلِ زرناب ہیں گویا میرے لئے سروری نعت ہے ہو عطا نعت یہ بھی کرم ہے مگر خواہشِ نعت بھی واقعی نعت ہے دل کی بے چینیاں منہ چھپا لیتی […]

ہونٹ جب اسمِ محمد کے گہر چومتے ہیں

تب کہیں حرفِ دعا بابِ اثر چومتے ہیں گھیر لیتے ہیں انہیں کیفِ کرم کے جگنو ان کی چوکھٹ کو جو با دیدۂ تر چومتے ہیں ان کے چہرے کی صباحت کا سماں کیا ہوگا جن کے تلووں کی لطافت کو قمر چومتے ہیں ورنہ پتھر کو کہاں ملنا تھا ایسا رتبہ آپ نے چوما […]