وُجُودِ شاعرِ مِدحت پہ خوف ہے طاری
صراطِ نعت ہے تلوار ایک دو دھاری حرُوفِ نعت میں ہَوں کیفیات بھی شامل یہاں عرُوض کی کافی نہیں ہے فن کاری گُھلی ہے رُوح میں سرکار آپ کی چاہت وریدِ جاں میں رواں ہے بہ شکلِ سر شاری حُضُور! بھیجا ہے جاؤوک کہہ کے مالک نے پڑا ہے آپ کی چوکھٹ پہ ایک اقراری […]