کرم منظر، گدا پرور مرے سرکار کی چوکھٹ

نہ دیکھے قد، نہ دیکھے سر مرے سرکار کی چوکھٹ مسیحاؤں کی چارہ گر مرے سرکار کی چوکھٹ کرے اندھوں کو دیدہ ور مرے سرکار کی چوکھٹ وہ اپنے وقت کا دارا ہو، یا کوئی سکندر ہو جھکا لیتی ہے سب کے سر مرے سرکار کی چوکھٹ فراز چرخ کا عرش علا کا باغ جنت […]

جو انداز ثنا میرا جدا معلوم ہوتا ہے

صریحاً صدقۂ خیر الوریٰ معلوم ہوتا ہے نبی کے شہر کی تابندگی کا حال یہ دیکھا وہاں کا ذرہ ذرہ طور کا معلوم ہوتا ہے زبان رنگ و بو سے گلشن ہستی کا اک اک گل درود پاک ہی پڑھتا ہوا معلوم ہوتا ہے چھپائے ہے فلک سینے میں کتنے راز سر بستہ مجھے تو […]

خیرالبشر ہو، فخر رسولاں تمہی تو ہو

القاب میں بھی سب میں نمایاں تمہی تو ہو واضح نشان منزل عرفاں تمہی تو ہو راہ ھدیٰ کی شمع فروزاں تمہی تو ہو تم سے اگر نہ مانگیں تو کس سے کریں طلب ملک خدا کے ناظم و نگراں تمہی تو ہو گلزار رنگ و بو میں تمہی سے نکھار ہے جان بہار، شان […]

جسے ان کے در کی گدائی ملی ہے

اسے پھر کسی چیز کی کیا کمی ہے وہ شمس الضحیٰ ہیں وہ بدر الدجیٰ ہیں جو پھیلی ہے ہر سُو یہی روشنی ہے بہار اُن کے دم سے ہے ہر دم چمن میں اُنہی کی بدولت کھِلی ہر کَلی ہے نہ در اُن کے در سا کوئی ہے جہاں میں نہ اُن کی گلی […]

ذکرِ احمد اپنی عادت کیجئے

اس طرح اظہارِ الفت کیجئے چاہتے ہیں گر خُدا کی رحمتیں پیارے آقا سے محبت کیجئے اُن کی یادیں دل میں رکھئے ہر گھڑی اور یوں سامانِ راحت کیجئے دو جہاں میں سرخرو ہو جائیے ہر عمل پابندِ سنت کیجئے بول اٹھیں گے قبر میں منکر نکیر آگئے آقا زیارت کیجئے حشر میں ہو گی […]

فیض ہے سلطانِ ہر عالم کا جاری واہ وا

پا رہی خلقِ خدا ہے جس کو ساری واہ وا ہیں زمانے کے شہنشاہوں پہ بھاری واہ وا آستانِ نور کے ہیں جو بھکاری واہ وا یاد پیارے مصطفی کی پُر سکوں کرتی ہے اور دور کردیتی ہے دل کی بے قراری واہ وا مل گیا ہے آپ کا رحمت بھرا دامن ہمیں خوب نسبت […]

مدینے کی فضا ہے اور میں ہوں

مرا بختِ رسا ہے اور میں ہوں تصور میں سنہری جالیاں ہیں عطائے مصطفی ہے اور میں ہوں پرِ روح الامیں لگ جائیں مجھ کو بلاوا آپ کا ہے اور میں ہوں جھکا ہے سر نبی کے آستاں پر یہی صبح و مسا ہے اور میں ہوں عبادت ہی عبادت ہو رہی ہے شہِ دیں […]

بخشی گئی جو نعمتِ مدح و ثنا مجھے

’’شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے‘‘ حیرت سے دیکھتے ہیں سبھی اغنیا مجھے اتنا مرے نبی نے کیا ہے عطا مجھے رکھتا ہوں دل میں خواہشِ دیدارِ شہرِ نور لے چل درِ حضور پہ بادِ صبا مجھے مانگا ہے میںنے ان کے وسیلے سے جب کبھی رب نے دیا ہمیشہ طلب سے سَوا […]

نعت کیا لکھوں شہِ ابرار کی

خود خدا مدحت کرے سرکار کی اُس پہ بارش کیوں نہ ہو انوار کی ہو گئی جس پر نظر سرکار کی کب ہے خواہش درہم و دینار کی؟ بھیک بس مل جائے اُن کی پیار کی ذرۂ خاکِ شفا کے سامنے کیا ہے وقعت لعل کے انبار کی؟ خارِ طیبہ ہے مرے پیشِ نظر بات […]

کب ہے مہ و نجوم کے انوار کی طلب

مجھ کو فقط ہے رحمتِ سرکار کی طلب اب تو حضور خواب میں تشریف لائیے کب سے ہے مجھ کو آپ کے دیدار کی طلب صحرائے طیبہ جس نے بھی دیکھا ہے ایک بار اس کو ہوئی نہ پھر گل و گلزار کی طلب دونوں جہاں میں راحتیں پانے کے واسطے رکھتا ہوں اُن کے […]