بے خطر کہیے ، برملا کہیے
ان کو کونین کی بقا کہیے مہرِ شفقت مہِ عطا کہیے ان کو رحمت کا سلسلہ کہیے کون ہے غم گسار ان کے سوا ان سے ہی اپنا ماجرا کہیے یہ دیارِ نبی کی مٹی ہے ہر مرض کی اِسے دوا کہیے میرے آقا ، مِرے شہِ دیں کو وجہِ تخلیقِ دو سَرا کہیے چاند […]