بچھی ہے مسندِ عز و وقار ان کے لیے

سروں کو خم ہیں کیے تاجدار ان کے لیے سجی ہے ان کے لیے محفل نجوم و قمر ہے آسمان کو حاصل قرار ان کے لیے درود پڑھتی ہیں سر سبز وادیاں ان پر رواں دواں ہیں سبھی آبشار ان کے لیے اثاثہ نکہت طیبہ کا بھر کے دامن میں ہوئیں ہوائیں غریب الدیار ان […]

میں نے تو جو مانگا ہے ملا آپ کے در سے

کیوں کر نہ ہو پھر ربط مرا آپ کے در سے کی آپ نے ہی راہنمائی مرے آقا اللہ کو پایا بخدا آپ کے در سے دنیا نے جسے گنبد بے در میں کیا قید ملتی ہے اسے تازہ ہوا آپ کے در سے خاموش نہ کر پایا جسے سیل ہوا بھی پایا ہے وہ […]

دم بخود ہے مہر شاہِ دوسرا کو دیکھ کر

چاند بھی حیرت میں ہے بدرالدجیٰ کو دیکھ کر زندگی کے راستے میں ہم بھٹک سکتے نہیں ہم سفر کرتے ہیں ان کے نقشِ پا کو دیکھ کر ان کے اندازِ تکلم کی مثالی شان ہے کْفر، ایماں میں ڈھلے حسنِ ادا کو دیکھ کر ڈھونڈنے نکلی تھی مثلِ مصطفیٰ چشمِ خرد لوٹی با حسرت […]

کام آئے گی مرے بزم عقیدت ان کی

بخشوائے گی سر حشر محبت ان کی شاہِ کونین ہیں وہ ، تاج ہے رحمت ان کا کیوں نہ ہو سارے زمانے کو ضرورت ان کی رب کونین ہے خود مدح میں ان کی مصروف یہ وقار ان کا ، یہ عظمت ، یہ وجاہت ان کی عالم حسن ہے رخسارِ مقدس پہ نثار حیرتی […]

چمک گئی مری قسمت درود پڑھتے ہوئے

ٹلی ہر ایک مصیبت درود پڑھتے ہوئے بھٹک رہا تھا کہیں دشت نامرادی میں ملی خیال کو رفعت درود پڑھتے ہوئے پہونچ گیا جو مقدر سے ان کی گلیوں میں تو میں کروں گا زیارت درود پڑھتے ہوئے خدائے پاک مجھے تاج کامرانی دے کروں گا نعت کی خدمت درود پڑھتے ہوئے ہنر سے ، […]

مری فریاد سُنیے ہوں پریشاں یا رسول اللہ

مرے ہر دُکھ کا بھی کر دیجے درماں یا رسول اللہ گناہوں نے مجھے گھیرا ہوا ہے دیکھیئے آ کر میری بخشش کا بھی ہو جائے ساماں یا رسول اللہ جسے بس آپ کی ذاتِ مقدس سے محبت ہو مجھے کر دیجیئے ایسا مسلماں یا رسول اللہ میرے ماں باپ اور مُرشد پہ بھی چشمِ […]

بیان کیسے ہو عظمت رسولِ اکرم کی

خدا ہی جانے حقیقت رسولِ اکرم کی عروجِ نوعِ بشر کے لیے یہ کافی ہے رہے نظر میں شریعت رسولِ اکرم کی کسی کے وہم و گماں میں نہ آ سکے گی کبھی کہاں ہے سرحدِ رفعت رسولِ اکرم کی خدا اور اس کے ملائک تو کرتے ہیں ہر دم اے مومنو! کرو مدحت رسولِ […]

ایک ہی خواب کو آنکھوں میں سجا رکھا ہے

سر کو خاکِ در اقدس پہ جھکا رکھا ہے قابلِ رشک ہے وہ شخص بھری دنیا میں میرے آقا نے جسے اپنا بنا رکھا ہے کیوں نہ رحمت کے فرشتے کریں رحمت مجھ پر آپ کا نام جو ہونٹوں پہ سجا رکھا ہے جس نے سرکار کی الفت کو بسایا دل میں ہم نے پلکوں […]

حسرتِ دل ہے مدینے کی بہاریں دیکھوں

اور پھر نور میں ڈوبی ہوئی راتیں دیکھوں نقشہء خلدِ بریں ہے وہ مدینے کی گلی آپ کی راہگزر ، آپ کی راہیں دیکھوں چھائی رہتی ہیں جو طیبہ کے سبب عالم پر آپ کے روضے پہ رحمت کی گھٹائیں دیکھوں آپ کے عشق میں بے تاب ہوا جاتا ہوں آپ کچھ کیجئے پُرکیف فضائیں […]

بگڑی ہوئی قسمت کو سرکار بناتے ہیں

جن کو نہ کوئی پوچھے اُن سے بھی نبھاتے ہیں چاہیں تو وہ قدموں میں طیبہ میں بلاتے ہیں چاہیں تو وہ خوابوں میں دیدار کراتے ہیں ہر اک پہ کرم کے وہ انبار لٹاتے ہیں دکھ درد کے ماروں کے یاور ہیں نبی سرور غم خوار زمانے کے جگ داتا ہیں وہ رہبر ہر […]