ذرّہ ، ذرّہ جہاں کا بنا طور ہے
جس طرف دیکھئے نور ہی نور ہے کس کی آمد کے چرچے ہیں کیوں آج یہ سارا عالم مسرت سے معمور ہے کس لیے ہے فلک سر جھکائے ہوئے کیوں زمیں اپنی قسمت پہ مغرور ہے جشن برپا ، صدائیں ہیں صلِّ علیٰ کیوں مَلَک شادماں ، دنیا مسرور ہے ہر طرف راحتیں کیوں نئی […]