نعت کہنا مری قسمت کرنا

ختم ہے اُن پہ سخاوت کرنا اور بنائے کا مصرف کیا ہے سبز گنبد کی زیارت کرنا اُن کے قبضے میں خزانے، رب کے اُن کی عادت ہے سخاوت کرنا دور طیبہ سے تڑپنا دل کا ہجر لمحوں میں عبادت کرنا صرف محبوبِ خدا کا منصب نوعِ انساں کی قیادت کرنا سوئے طیبہ ہو اڑانیں […]

انجامِ التجا، شبِ غم کی سحر پہ ہو

الطافِ خاص آج مری چشم تر پہ ہو عشاق سر بلند رہیں کائنات میں خاک درِ رسول کی دستار سر پہ ہو سالار قافلہ ترا نقشِ قدم رہے جتنا سفر ہو اب، وہ تری رہگزر پہ ہو معراجِ آرزو ہے کہ دیکھوں درِ حبیب اک نعت کاش روضۂ خیر البشر پہ ہو نکلے بدن سے […]

وہ بھی کیا دور تھا

۔1۔ وہ بھی کیا دور تھا ذہن کا آئینہ گرد آلود تھا روحِ انسانیت ہو چکی تھی فنا میکشی تھی ہنر اور زِنا معتبر سر سے تہذیب کے گر چکی تھی رِدا شرم و اخلاص کی مر چکا تھا تمدّن بھی تاریخ کا اور ڈوبی ہوئی تھی رگِ ارتقا حکمراں تھیں جہالت کی تاریکیاں فکر […]

ان کی ذاتِ اقدس ہی، رحمتِ مجسم ہے

ان کی ذاتِ اقدس ہی ، رحمتِ مجسم ہے عرش پر معظّم ہے ، اور فخرِ عالم ہے یہ شرف ملا کس کو ، فرش کے مکینوں میں قدسیوں کی محفل میں ، ذکر ان کا پیہم ہے مخزنِ تقدس ہے ، چشم پُر حیا اُن کی گیسوئے حسیں اُن کا ، نرم مثلِ ریشم […]

جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں

سر جھکاتا ہوں، ترے در پہ چلا آتا ہوں بے یقینی کے اندھیروں میں چراغاں کے لیے شمع مدحت کی جلاتا ہوں، ضیا پاتا ہوں غم نہ کر، شہر محبت سے پیام آئے گا ہجر میں دل کو اسے بات پہ ٹھہرتا ہوں میں گنہگار کہاں، مدحت سرکار کہاں بخت پر ناز ہے، اعمال پہ […]

خوشا ہر گوشۂ سیرت منّور ہے محمد کا

مثالِ آئینہ شفاف پیکر ہے محمد کا صبا مس ہوکے جب گزرے اسے مستی میں آ جائے بسا خوشبو میں ایسا جسمِ اطہر ہے محمد کا اسی سے ماہ و انجم روشنی کی بھیک لیتے ہیں کچھ اِس انداز سے چہرہ منور ہے محمد کا لکھیں اس کے سوا تعریف کیا ہم اس کی عظمت […]

دیارِ خوشبو کے ذرے ذرے کا کر رہی ہے طواف خوشبو

ہمیشہ یونہی کرے گی اس کے عروج کا اعتراف خوشبو میں جب بھی یادوں میں ان کے چہرے کے خال و خد کو پکارتا ہوں تو معبدِ قلب و جاں میں کرتی ہے دیر تک اعتکاف خوشبو یہ کس کی فرقت نے ڈال دی ہے سیاہ پوشی کی تجھ کو عادت حرم میں کعبہ سے […]

کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں

ورق ورق چاندنی لٹاتے کروڑہا ماہتاب لکھ دوں وہ سنگریزے جو راستوں میں پڑے ہوئے ہیں وہ محترم ہیں دیارِ خوشبو کے ذرے ذرے کو نازشِ آفتاب لکھ دوں ہوائیں سرگوشیوں میں مژدے شفاعتوں کے سنا رہی ہیں ہوائے بطحا کے مہکے جھونکوں کو مشک و عنبر کے خواب لکھ دوں یقیں ہے کامل درود […]

خطا کار چوکھٹ پہ آئے ہوئے ہیں

جبینِ ندامت جھکائے ہوئے ہیں زمینِ عرب کس قدر اوج پر ہے جہاں آسماں سر جھکائے ہوئے ہیں مدینے کی گلیوں کے پر نور منظر مری دھڑکنوں میں سمائے ہوئے ہیں کرم کیجئے اے رسولِ مکرم بڑے رنج و غم کے ستائے ہوئے ہیں نگاہوں میں دکھ اور کاندھے پہ اپنے گناہوں کی گٹھڑی اٹھائے […]

کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی

ہوئی نگاہِ لطف بات بن گئی جمیع کی وہ ٹالتا نہیں ہے یا حبیب تیری بات کو سماعتیں لگی ہیں تیری بات پر سمیع کی فراق نے حصار میں لیا ہوا تھا روح کو کرم ہوا عطا ہوئی مجھے گلی وقیع کی یہ ملتجی کئی دنوں سے تھا برائے حاضری سنی گئی حضور کے غلام […]