آپ تو صرف حکُم کرتے ہیں

سنگ مٹھی میں بول پڑتے ہیں تجھ سے ہی آب و دانہ لیتے ہیں تیرے سائل یہ سب پرندے ہیں منتظر آپکے قدم کے حضور میرے دل میں ہزار رستے ہیں ان سے غَم کہتے ہیں ، شُتَر اَپنا اُنکی فرقت میں پیڑ روتے ہیں جو سراقہ کو مل گئے کنگن یہ بھی میرے نبی […]

گرداب میں ہونٹوں پہ دعا دیکھ رہا ہوں

کشتی کو کنارے پہ کھڑا دیکھ رہا ہوں اک نور میں ضم ہوتے ہیں سوچوں کے پرندے حیرت سے عقیدت کی فضا دیکھ رہا ہوں چَھٹ جاتے ہیں اذہان سے تفریق کے بادل اک صَف میں وہاں شاہ و گدا دیکھ رہا ہوں یہ باغِ مدینہ کے تصور کا ہنر ہے پلکوں پہ جو اک […]

چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے

ستارے پھُول بنے شاہِ دو جہاں کے لئے وفورِ لطفِ نبی کا ہے معجزہ یہ بھی کہ رات پا بہ سلاسل تھی اِک اذاں کے لئے ہے آستانہء احمَد فقط چراغِ یقیں جگہ نہیں ہے یہاں ظلمتِ گماں کے لئے تِھیں فرشِ راہ نگاہیں مدینے والوں کی اتر رہے تھے ملائک بھی سارباں کے لئے […]

گرہ جو آگہی کی کھل رہی ہے

یہ سب عشقِ نبی کی روشنی ہے یہاں کیا کام اندھے وسوسوں کا یہاں چشمِ عقیدت جاگتی ہے طلبگارِ گلِِ عشقِ نبی ہوں اثر میری دُعا کا شبنمی ہے لبِ تیرہ پہ پھر وہ اسم چمکا صباحت پھر ہویدا ہو رہی ہے جمالِ مصطفےٰ خضرِ خرد ہے یہاں معذور فکرِ سامری ہے لبوں پر ثبت […]

گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے

گویا بڑی عطا ہے طلبگار کے لئے یہ قصدِ نعت گوئی گنہگار کے لئے پڑھتی ہے اس پہ سانس کی مکڑی درودِ پاک یہ غارِ دل ہے جلوہءِ سرکار کے لئے مقصود کُن بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں دونوں جہاں ہیں ھستیء سرکار کے لئے بزمِ نبی میں مدح سَرا ہوں سو لفظ […]

آنکھ محرومِ نظارہ ہو ، ضروری کیا ہے

دل میں جب شوقِ زیارت ہے تو دوری ، کیا ہے اُن کی تعظیم میں وہ آنکھ اٹھاتے کب ہیں جو سمجھتے ہیں تقاضائے حضوری کیا ہے "خواب میں دید یہاں ” اور شفاعت ” واں ہو” بات پھر دنیا و عقبیٰ میں ادھوری کیا ہے "حسنِ رحمت سے جہانوں کو منور کرنا” دہر میں […]

نسیمِ ذِکرِ نبی جب لبوں کو چھو کے گئی

لگا کہ خلد کی جانب ہے کوئی کھڑکی کھلی خدایا کرنا محبت بھی لازوال ان کی وہ جن کا پہلا تعارف بنی ہو نعتِ نبی جو نقشِ پائے نبی نے اگائے چاند ان کی پڑی جو لَو تو نصیبے اجالتی ہی گئی میں نیند آنے سے پہلے ذرا وضو کر لوں کہ میرے خواب میں […]

نبی کا صدقہ ہیں منظر صدائے کن کے بعد

سبھی حسین بنائے گئے ہیں اُن کے بعد مرے رسول تو کامل ہیں ، وہ نہیں ہیں جنہیں نبی بناتے ہیں جاہل ، ادھیڑ بُن کے بعد جو قلب و روح کے مابین ایک آہنگ ہے وہ دھڑکنوں میں سجا ہے ثنا کی دُھن کے بعد کسی گنُی کا کوئی ذکر کیا کریں ہم لوگ […]

بہ ہر طریق کوئی ، ناز آفرین نہیں

جہاں میں کوئی بھی سرکار سا حسین نہیں خیال شعر میں ڈھالا تو یہ لگا مجھ کو فضائے چرخ ہے یہ نعت کی زمین نہیں ثنائے شاہ ِمدینہ کی ہے ڈگر پہ ، رواں سو اب سمندِ قلم سے گرے گی زین نہیں خدا کا عشق محمد سے ہے دلیل اس کی ہمارے دین سے […]

تابِ کمال لایا ہے،عرشِ بریں کا چاند

تابِ کمال لایا ہے ، عرشِ بریں کا چاند چمکا ہے بارہویں کی سحر چودھویں کا چاند دو نیم اک اشارہءِ انگشت سے ہوا گر جوڑتے نہ آپ تو رہتا کہیں کا چاند تاباں نہ کیوں ہمارا رخِ شامِ ہست ہو وہ روضہِ طہور ہے ایمان و دیں کا چاند کھیتی سخن کی نور سے […]