بہ چشمِ تر وہ مرا لوٹنا مدینے سے
پھر ان کو دور تلک دیکھنا مدینے سے گداز ، آنکھوں میں آبِ ملال کھینچتا ہے کوئی بھی چلتا ہے جب قافلہ مدینے سے بہت بڑا ہے یہ احسان یار جا کے وہاں ذرا سی د،یر ،مجھے سوچنا، مدینے سے ہزار اشکِ ندامت ہیں سست رَو لیکن ندی بنائے گی اک راستہ مدینے سے وہ […]