بہ چشمِ تر وہ مرا لوٹنا مدینے سے

پھر ان کو دور تلک دیکھنا مدینے سے گداز ، آنکھوں میں آبِ ملال کھینچتا ہے کوئی بھی چلتا ہے جب قافلہ مدینے سے بہت بڑا ہے یہ احسان یار جا کے وہاں ذرا سی د،یر ،مجھے سوچنا، مدینے سے ہزار اشکِ ندامت ہیں سست رَو لیکن ندی بنائے گی اک راستہ مدینے سے وہ […]

کیوں نہ قربان ہوں پروانگی ہے، نزدیکی

آتشِ عشق کو بھڑکاتی ہے ان سے ،دوری اس نے پر کھولے تو جاگ اٹھی درودوں کی مہک نعت کے پھول سے ہونٹوں نے جو تتلی پکڑی دیدِ طیبہ و حرم مثلِ جہانگیری ہے میری نظروں میں سکندر سے بڑا ہے حاجی نسبتِ شاہ سے ہے درجہ و تکریم کی شان ورنہ سب عام سے […]

کمالِ بخت ہے ان کی توجہات کی بات

چمک دمک ہے نگاہِ نوازشات کی بات بڑی حسین و مقدس ہے ایک رات کی بات ہوئی خدا سے تھی جب فخرِ کائنات کی بات تم اپنے ذوقِ عمل میں بھرو صداقتِ عشق نگہ بلند ہو جب وہ کریں نجات کی بات فسوں سماعتِ قرطاس میں بکھرنے لگا برائے نعت ہوئی جب قلم دوات کی […]

لبوں سے اسمِ محمد جدا نہیں ہوگا

لبوں سے اسمِ محمد جدا نہیں ہو گا تو قلب وجاں پہ نزولِ بلا نہیں ہو گا ہمارے ہوتے ہوئے اے عدوئے آلِ نبی یہ مت سمجھنا کوئی معرکہ نہیں ہو گا ہمارا آپ سے وعدہ ہے پیروکاری میں کوئی بھی حشر تلک بے وفا نہیں ہو گا کرم نوازی ہی ملت پہ وہ ہے […]

ان کی ہوئی جو بات تو ٹھنڈی ہوا چلی

پڑھنے لگا میں نعت تو ٹھنڈی ہوا چلی گلیوں میں کتنا حبس تھا گزرے جب ایک بار وہ فخرِ کائنات تو ٹھندی ہوا چلی دن ڈھل رہے تھے دھوپ کی حدت میں دیر سے آئی شبِ برات تو ٹھنڈی ہوا چلی زائر نے سنگِ روضہِ اقدس کو چُھو کے جب چُوما خوشی سے ہاتھ تو […]

نہ قیدِہست نہ صدیوں کی حد ضروری ہے

نبی سے عشق ہمیں تا ابد ضروری ہے سکونِ روح کی خاطر خدا کی حمد کے بعد لبوں پہ نعت کا ہونا اشد ضروری ہے جزائے کارِ محبت میں ان کے کیا کہنے جنہیں بہشت سے ان کی سند ضروری ہے کمالِ اشک کو لازم ہے سنگِ در ان کا کہ جیسے پھول کا شبنم […]

شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے، پشیماں کیوں ہے

شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے ، پشیماں کیوں ہے مانگنے والے تو کچھ مانگ پریشاں کیوں ہے عشقِ سرکار ہی جب ٹَھہرا دوا خانہِ ہست خود سمجھ لو کہ مرا دل، مرا درماں کیوں ہے چشمِ اسباب تجھے کھینچتی ہے اپنی طرف دیکھ اے دوست کہ دنیا میں چراغاں کیوں ہے ربطِ تخلیق میں […]

عشق کا ہے یہ ہنر،میں ہوں یہاں نعت خواں

عشق کا ہے یہ ہنر ، میں ہوں یہاں نعت خواں ورنہ کہاں تیرا ذکر اور کہاں نعت خواں گونجتی ہے شش جہات ، میں ترے ہی رخ کی بات ہم ہی نہیں، ہیں ترے ، کون ومکاں ، نعت خواں وصف ہے بس ذات میں بات ہے وہ نعت میں جب بھی پڑھے باندھ […]

وہ ہی بے لوث ہے جو آپ کی نسبت سے ملا

ورنہ ہر شخص یہاں اپنی ضرورت سے ملا منتظر بیٹھے ہیں اُس خواب کے دروازے پر دل کو جو ان کی تمنائے زیارت سے ملا جب اُبھارے گئے امکان پہ ہستی کے خطوط حسن مخلوق کو سب آپکی صورت سے ملا عظمتِ راہبری عقل پہ کھل جائے گی ان کے منصب کو رسولوں کی امامت […]

بلند بخت اس لئے بھی ہے تنا کھجور کا

کہ لمس اِس کی چھال میں ہے بازوئے حضور کا یہ کائنات سرمئی کتاب کی مثال ہے درِ نبی ہے گام گام حرف حرف نور کا سماعتوں کے طاق میں چراغ تابدار ہیں پیَمبری ہے آپکی کہ سلسلہ ہے نور کا یہ سبز موسموں میں ہے نموئے تاب آپ سے یہ منظروں میں حسن بھی […]