بُوند خوشبوئے ہوا ہے جو سمندر سے اُٹھے
گھر نہیں جاتا وہ کافر جو ترے درسے اُٹھے اک تجلی سے ہوا حسنِ تجلی کا ظہور اور پھر سارے نظارے اسی منظر سے اُٹھے اسی بھائی کو لقب سجتا ہے مولائی کا جو ترے کاندھوں پہ بیٹھے ترے بستر سے اُٹھے کتنے حاکم تھے جو پہنچے نہ تری گرد تلک کتنے عالم تری قامت […]