بُوند خوشبوئے ہوا ہے جو سمندر سے اُٹھے

گھر نہیں جاتا وہ کافر جو ترے درسے اُٹھے اک تجلی سے ہوا حسنِ تجلی کا ظہور اور پھر سارے نظارے اسی منظر سے اُٹھے اسی بھائی کو لقب سجتا ہے مولائی کا جو ترے کاندھوں پہ بیٹھے ترے بستر سے اُٹھے کتنے حاکم تھے جو پہنچے نہ تری گرد تلک کتنے عالم تری قامت […]

پڑا ہوں سرِ سنگِ در مورے آقا

ادھر بھی کرم کی نظر مورے آقا کٹھن کس قدر تھا وہ پل سر زمیں پر گئے جب تھے معراج پر مورے آقا میسر ہو جس رات خوابِ زیارت نہ اس رات کی ہو سحر مورے آقا وہی پل تو ہیں یاد آنے کے قابل جو در پر ہوئے ہیں بسر مورے آقا کریں معبدِ […]

سجا ہے لالہ زار آج نعت کا

ہر ایک قلب پر ہے راج نعت کا ہر ایک صنف کو زوال ہے مگر چلے گا دائمی رواج نعت کا بڑے ادب سے حرف حرف جوڑنا بڑا لطیف ہے مزاج نعت کا بڑا ہی دلربا ہے دل نشین ہے یہ آیتوں میں امتزاج نعت کا لحد نہ ہو گی تیرگی سے آشنا رہے گا […]

خطا ،ختن کے مشک سے دہن کو باوضُو کروں

تو پھر میں نقشِ پائے مصطفیٰ کی گُفتگُو کروں یہ آرزُو بسی ہوئی ہے دھڑکنوں کی خُلد میں کہ فرقتوں کے گھاؤ اُن کی دِید سے رفُو کروں تجھے ہی سوچتا رہوں میں ہر گھڑی شہِ اُمَم بجز ترے ہر اک خیال غرقِ آب جُو کروں ہر ایک نقش ذہن سے مٹا دیا گیا مگر […]

قلم کو ذوقِ نعت بھی ہے شوقِ احتیاط بھی

وَرَق وَرَق پہ لکھ رہا ہے خُلدکی صِراط بھی دیارِ نُور میں ہیں دونوں کیفیات اوج پر غمِ فراق بھی حضُوریوں کا اِنبساط بھی بڑھا رہی ہے اُن کی یاد اِشتیاقِ دید کو خیالِ شاہِ محترم ہے باعثِ نِشاط بھی ہر ایک سوچ مُرتکز ہے کوئے مُشک بار پر اسی سے میرا اُنس بھی ہے […]

شمس الضحیٰ سا چہرہ قرآن کہہ رہا ہے

میرا نہیں یہ گفتہ قرآن کہ رہا ہے آواز پست رکھنا دربارِ مصطفیٰ میں لا ترفَعُو کا جملہ قرآن کہہ رہا ہے بخشے گا رب خطائیں جاؤ درِ نبی پر جاؤوک میں ہے رستہ قرآن کہہ رہا ہے گستاخِ مصطفیٰ کے دس عیب کھل گئے ہیں جائز نہیں ہے نطفہ قرآن کہہ رہا ہے گزرے […]

قلب کو بارگہِ شاہ سے لف رکھتا ہوں

اپنی ہر سوچ مدینے کی طرف رکھتا ہوں اپنے ہر حرف کو دیتا ہوں محامد کا عَلَم اپنے الفاظ کو انوار بکف رکھتا ہوں دو کریموں سے ہی امیدِ کرم ہے ورنہ فردِ اعمال میں بے فیض خذف رکھتا ہوں کچھ تو ہو سنگِ درِ جانِ دو عالم کے لئے گوہر اشک بہ اندازِ صدف […]

بے بسوں بے کسوں کی دعا مصطفیٰ

بے نواؤں کے ہیں ہمنوا مصطفیٰ دے کے اذنِ حضوری درِ پاک کا کیجئے غم سے مجھ کو رہا مصطفیٰ یوں تو ہیں انبیاء بھی رسل بھی مگر کون ہے مصطفیٰ کے سوا مصطفیٰ رحمتِ کبریا سائباں بن گئی دھوپ میں جب کسی نے کہا مصطفیٰ شاہ پارہ ہے صناعِ لاریب کا حسنِ بے مثل […]

آتا ہے یاد شاہِ مدینہ کا در مجھے

مل جائے شہرِ نور کا رختِ سفر مجھے جاؤ درِ نبی پہ اگر کر چکے خطا بتلا دیا کریم نے بابِ اثر مجھے اللہ اس کو دونوں جہاں میں قرار دے جس نے ربیعِ نور کی دی ہے خبر مجھے روشن کروں گا سارے زمانے کو نعت سے لفظوں کے دیجئے گا منور گہر مجھے […]

لب کو ذکرِ حضور ملٍتا ہے

لب کو ذکرِ حضور ملتا ہے چشم و دل کو سرور ملتا ہے کملی والے کی نوری کملی سے سب کو سایہ ضرور ملتا ہے جس کو ملٍتا ہے دامنِ احمد اس کو ربِ غفور ملتا ہے کہہ رہے ہیں فرشتے آقا سے چاند تاروں کو نور ملتا ہے اے فداؔ سیرتِ نبی سے ہمیں […]