پڑا ہے اسمِ نبی سے رواج حرفوں کا
رہے گا صفحۂ ہستی پہ راج حرفوں کا جلا رہا ہوں چراغِ ثنائے سرورِ دیں لحد میں جاؤں گا لے کر سراج حرفوں کا پلا کے لفظ کی تلخی کو جام مدحت کے بنا رہا ہوں میں شیریں، مزاج حرفوں کا یہ حرفِ نعت زیارت گہِ ملائک ہوں کریں جو اشکِ رواں اندراج حرفوں کا […]