جب تذکرہ شاہ زمین و زمن چلے

خوشبو درود پڑھتی سر انجمن ملے خیرالوریٰ کے جشن پر لکھنے لگوں جو نعت قرطاس پر قلم بھی لئے بانکپن چلے قرآں میں درج حسن کمالات کی قسم حسن نبی کا ذکر سخن در سخن چلے لازم ہے امتی پہ اطاعت حضور کی کردار میں حضور کا لے کے چلن چلے ہر سمت جائے کرتی […]

خیالِ نعت تھا یا الفتِ سرکار کی بارش

دلِ تاریک روشن کر گئی انوار کی بارش دلوں کی کھیتیاں سرسبز ہو کر لہلہا اُٹھیں اثر کرتی گئی جن پر تری گفتار کی بارش جمی رہتی ہیں جن میں محفلیں ذکرِ پیغمبر کی برستی ان گھروں پر ہے سدا مہکار کی بارش عقیدے کی زمیں بنجر نہیں آباد دیکھیں گے تسلسل سے اگر ہوتی […]

جب قلم سے کچھ بدست کبریا لکھا گیا

لوح پر نام محمد مصطفیٰ لکھا گیا لکھنا لازم تھا سبب تخلیق کائنات کا الفت خیر البشر خیر الوریٰ لکھا گیا جس میں قرآن مجسم کا کیا حق نے نزول اس مقدس شہر کو ام القریٰ لکھا گیا جب کسی نے نعت لکھنے کیلئے پکڑا قلم جا بجا بے ساختہ صلِ علیٰ لکھا گیا اجلی […]

خُلق اور خَلق میں بس آپ ہیں عالی مقام

جملہ مخلوقات میں ہیں آپ سب سے محتشم نعت گوئی کا ادا حق ہو یہ ممکن ہے کہاں فضل ربی کی بدولت لکھ رہے ہیں نعت ہم آفتاب نور ہیں فضل و کرم میں طور ہیں اے نبیِ محترم ہیں آپ دریائے کرم یا نبی دیدار کی لذت ہمیں بھی ہو نصیب رحمۃ للعالمیں ہم […]

قلم خوشبو کا مل جائے صحیفہ نعت کا لکھّوں

ادب گاہِ حرا لکھّوں انہیں بعد از خدا لکھّوں نہیں آسان ہے حمد و ثنا اور نعت کا لکھنا نبی کو میں نبی لکھّوں خدا کو میں خدا لکھّوں سند بن جائے اک اک حرف میری نعت کا مولیٰ امام احمد رضاؔ جیسی میں نعت مصطفیٰ لکھّوں

مری ہر نعت کا لہجہ نیا اوّل سے آخر تک

مرا ہر شعر ہے رب کی عطا اوّل سے آخر تک میں اپنے دل سے کچھ لکھتا نہیں مدح محمد میں ثنا خواں ہوں بحکم کبریا اوّل سے آخر تک یقیناً دور ہوں گے مسئلے سب عصر حاضر کے ترے پیش نظر ہوں مصطفیٰ اوّل سے آخر تک شفاعت کی طلب سب کو یقیناً حشر […]

ہے ہم کو آپ کے رب کا سہارا محترم آقا

نہیں دنیا میں کوئی بھی ہمارا محترم آقا عمل ہو آپ کے گر اسوۂ حسنہ پہ انساں کا چمک جائے مقدر کا ستارا محترم آقا بٹے ہیں مسلکوں کے تنگ خیموں میں ابھی تک ہم خسارہ ہی خسارہ ہے ہمارا محترم آقا

جب کبھی تذکرۂ شہرِ پیمبر لکھنا

قریۂِ جاں پہ جو اترا ہو وہ منظر لکھنا ان کو الفاظ و معانی کا سمندر لکھنا نعت کہنی ہو تو پہلے پسِ منظر لکھنا نقشِ پا احمدِ مرسل کا میسر ہو اگر ان کے ہر نقش کو تم میل کا پتھر لکھنا ان کے آنے سے جہاں نور سے معمور ہوا ان کے احسان […]

اپنی پہچان ہے سیّد خوش لقب سے

ان کا لطف و کرم ہے زمانے پہ جب سے ہر صحیفے نے بعثت کی ان کی خبر دی منتظر نسلِ انساں نہ تھی جانے کب سے آپ آئے تو انسانیت جاگ اُٹّھی تھی جدا گفتگو، تھا جدا لہجہ سب سے آپ اُمّی تھے دنیا کی نظروں میں لیکن سب کی دانائیاں ہیں سب ان […]