ذکرِ نبی اسرارِ محبت ، صلی اللہ علیہ و سلم

حق کا پیمبر ختم رسالت ، صلی اللہ علیہ و سلم صبح ازل کی جان بھی ہے و ہ شام ابد کی شان بھی ہے وہ اس کی ثنا گو ہر اک ساعت ، صلی اللہ علیہ و سلم ذکر نبی میں دل کی طرب ہے دل کی طرب خوشنودی رب ہے رب کی رضا […]

مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو

یہی نام میرا علاج ہے یہی نام لیتے رہا کرو مرے ہم سخن مرے ساتھیو مرے مونسو مرے وارثو تمہیں مجھ سے اتنا ہی پیار ہے مرے ساتھ صلِ علیٰ پڑھو کوئی چھیڑو قصے حضور کے گریں بت زمیں پہ غرور کے کھلیں باب عقل و شعور کے دل مضطرب کو قرار ہو مری زندگی […]

ہے یہ دربارِ نبی خاموش رہ

چپ کو بھی ہے چپ لگی خاموش رہ بولنا حدِ ادب میں جرم ہے خامشی سب سے بھلی خاموش رہ ان کے در کی مانگ رب سے چاکری تجھ کو جنت کی پڑی خاموش رہ ہے ذریعہ بہترین اظہار کا اک زبانِ خامشی خاموش رہ دل سے ان کو یاد کر کے دیکھ تو پاس […]

ہر طرف لب پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے

جشنِ میلاد ہے مصطفےٰ کا کیا معطر معطر گھڑی ہے آج سن لی ہے سب کی خدا نے کھل گئے رحمتوں کے خزانے جتنا دامن میں آئے سمیٹو ہر طرف رحمتوں کی جھڑی ہے چھٹ گئیں ظلمتوں کی گھٹائیں کیسے دن آج کا بھول جائیں عید میلاد آؤ منائیں کون سی عید اس سے بڑی […]

میں غریب سے بھی غریب ہوں مرے پاس دستِ سوال ہے

اے قسیم راحتِ دو جہاں مری سانس سانس محال ہے تو خدائے پاک کا راز داں تیرا ذکر زینتِ دو جہاں تیرے وصف کیا میں کروں بیاں تیری بات بات کمال ہے میں ہوں بے نوا تو ہے بادشہ میرا تاجِ سر تیری خاکِ پا میں ہوں ایک بھٹکی ہوئی صدا تری ذات حسنِ مآل […]

اپنی اوقات کہاں، ان کے سبب سے مانگوں

رب ملا ان سے تو کیوں ان کو نہ رب سے مانگوں ان کی نسبت ہے بہت ان کا وسیلہ ہے بہت کیوں میں کم ظرف بنوں بڑھ کے طلب سے مانگوں جس ضیا سے صدا جگ مگ ر ہے دنیا من کی اس کی ہلکی سی رمق ماہِ عرب سے مانگوں آندھیاں جس کی […]

جمال عکس محمدی سے فضائے عالم سجی ہوئی ہے

قرارِ جاں بن کے زندگی میں انہی کی خوشبو بسی ہوئی ہے خدائے واحد کی بن کے برہاں حضور آئے ہیں اس جہاں میں دکھوں سے جلتی ہوئی زمیں پھر ہر ایک غم سے بری ہوئی ہے نجانے کیسا کمال دیکھا نبی کا جس نے جمال دیکھا حواس گم سم نگاہ حیراں زباں کو چپ […]

مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے

مری ہر نگارشِ شوق پر اے کریم تیرا کرم رہے میں لکھوں جو نعت حضور کی دلِ مضطرب کے سرور کی کبھی چشم ناز بلند ہو کبھی سر نیاز سے خم رہے مری سانس سانس مہک اٹھے مجھے روشنی سی دکھائی دے میرا حرف حرف دعا بنے مری آہ آہ قلم رہے یہ یقین ہے […]

آپ سے حسن کائنات آپ کہاں کہاں نہیں

آپ کا ذکر نہ ہو جہاں ایسا کوئی جہاں نہیں ایک جاں سرور آگ سلگی ہے میری ذات میں ہے یہ عجیب ماجرا راکھ نہیں دھواں نہیں جن فیصلوں پہ آپ کی مہر ثبت ہو گئی اس کے بعد با خدا کوئی بھی این و آں نہیں اوصافِ پاک آپ کے جس سے تمام ہوں […]

پیارے نبی کی باتیں کرنا اچھا لگتا ہے

انکی چاہ میں جی جی مرنا اچھا لگتا ہے ٹھنڈی ٹھنڈی مہکی مہکی ہلکی ہلکی آہٹ سے یادِ نبی کا دل میں اترنا اچھا لگتا ہے جب ہستی کی چاہت کا ہے محور تیری ذات پل پل تیرا ہی دم بھرنا اچھا لگتا ہے میں بھی ثنا کے پھول سمیٹوں تم بھی درود پڑھو پتھر […]