فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے

تیری مدحت کے چرچے پھر بھی آقا کم نہیں ہوں گے ہر اک فانی ہے شے اور ذکر لا فانی تیرا ٹھہرا تیری توصیف تب بھی ہو گی جب آدم نہیں ہوں گے توسل سے انھی کے در کھلیں گے کامرانی کے وہ جن پر ہاتھ رکھ دیں گے انہیں کچھ غم نہیں ہوں گے […]

ہمیشہ مری چشمِ تر میں رہیں

حضور آپ دل کے نگر میں رہیں مری سوچ کے دائروں میں رہیں خیالات کے بام و در میں رہیں گماں فرقتوں کا میں کیسے کروں کہ جب آپ ہر سو نظر میں رہیں مرے حرف میں میرے الفاظ میں مرے شعر میرے ہنر میں رہیں مرے دن کی مصروفیت میں ہوں آپ مری رات […]

ہم بے کسوں پہ فضل خدا ہے حضور سے

اسلام کا شعور ملا ہے حضور سے آدم کو اپنی ذات کی پہچان تک نہ تھی انسان آدمی تو ہوا ہے حضور سے بے کیف بے سرور تھی بے نور زندگی اس میں سکوں کا رنگ بھرا ہے حضور سے ہوں اہلِ بیتِ پاک یا اصحاب مصطفےٰ وحدت کا سب نے جام پیا ہے حضور […]

تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات

پنہاں ہیں تیری ذات میں رب کی تجلیات ہر شے کو تیری چشمِ عنایت سے ہے ثبات ہر شے میں تیرے حسنِ مکمل کے معجزات کونین کو ہے ناز تیری ذاتِ پاک پر احسان مند ہیں تیری ہستی کے شش جہات پژمردہ صورتوں کو ملی تجھ سے زندگی نقطہ وروں کو سہل ہوئیں تجھ سے […]

نبی کی چشمِ کرم کے صدقے فضائے عالم میں دلکشی ہے

گلوں میں کلیوں میں رنگ و نگہت ہے چاند تاروں میں روشنی ہے جو آپ آتے نہ اس جہاں میں وجودِ کونین بھی نہ ہوتا بس آپ کے دم قدم سے آقا جہاں کی محفل سجی ہوئی ہے ہوا ہے ظلمت کا چاک سینہ گرے ہیں جھوٹے خدا زمیں پر کرن نبوت کی پھوٹتے ہی […]

لوں نام نبی قلب ٹھہر جائے ادب سے

صد شکر یہ اعزاز ملا ہے مجھے رب سے دنیا ہی بدل دی ہے مرے ذوق نے میری میں صاحبِ کردار ہوا تیرے سبب سے اے سرورِ کونین تیرے در کے تصدق ملتا ہے یہاں سب کو سوا اپنی طلب سے احسان ترا کیسے بھلا دوں شہِ والا پہچان ہوئی رب کی ہمیں تیرے سبب […]

ترا تذکرہ مری بندگی ترا نامِ نامی قرارِ جاں

اے حبیبِ رب اے شہِ عرب ترا پیار ہے میرا آسماں تری ذاتِ پاک کے فیض سے سبھی کائنات میں رنگ ہے تری شان زینتِ زندگی تیرا ذکر رونقِ دو جہاں مرے دل میں ایک خدا رہا تو ملا تو کفر ہوا ہوا تری ذاتِ پاک کے معجزے میں کہاں کہاں نہ کروں بیاں کڑی […]

مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو

ہم اپنی موت کو حیران کر جائیں تو اچھا ہو نہیں ہے حوصلہ روضہ تمہارا تکتے رہنے کا جنوں کہتا ہے تکتے تکتے مر جائیں تو اچھا ہو مری نم ناک آنکھوں کا یہی اب تو تقاضہ ہے تمہارے پیار کی حد سے گزر جائیں تو اچھا ہو جو ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں میرے سینے میں […]

بنامِ مصطفےٰ ہو امن یا رب پھر کراچی میں

مرے کشمیر کے بھی دن سدھر جائیں تو اچھا ہو میں جن کو روح کے قرطاس پہ محسوس کرتا ہوں وہ جذبے کاش کاغذ پر اتر جائیں تو اچھا ہو وہاں کیسی محبت دل جہاں سجدوں سے قاصر ہو جبینِ دل کو لے کر ان کے در جائیں تو اچھا ہو خیالوں میں کئی الفاظ […]

یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

ترے پیار کی بدولت مجھے میرے رب نے دی ہے تیری یاد کے تصدق تیرے پیار کے میں قرباں تیری بندہ پروری سے مری آنکھ شبنمی ہے مہہ و مہر کو بھی اتنی نہ ہوئی نصیب شاید جو تیری ضیا سے ہر سو مرے چاندنی کھلی ہے تیرا نام لے کے سونا تجھے یاد کر […]