فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے
تیری مدحت کے چرچے پھر بھی آقا کم نہیں ہوں گے ہر اک فانی ہے شے اور ذکر لا فانی تیرا ٹھہرا تیری توصیف تب بھی ہو گی جب آدم نہیں ہوں گے توسل سے انھی کے در کھلیں گے کامرانی کے وہ جن پر ہاتھ رکھ دیں گے انہیں کچھ غم نہیں ہوں گے […]