آمدِ سرکار پر ہے جا بجا آوازِ نعت

شادمانی ہے نرالی واہ وا آوازِ نعت خیر مقدم کے ترانوں کی جہاں میں گُونج ہے اوج پر ہے مرحبا صد مرحبا آوازِ نعت انبیاء آتے تھے دینے کو مبارک بادیاں آمنہ کے گھر میں تھی کیا دلرُبا آوازِ نعت ذکرِ شاہِ انبیاء کی ہے جہاں میں دھوم دھام روز افزوں ہے ترقی پر ثنا […]

تاجدارِ انبیاء خیر الوریٰ

آپ محبوبِ خدا خیر الوریٰ سیِّد و سالارِ ما خیر الوریٰ دِلبر و دِلدارِ ما خیر الوریٰ منتخب ہے ذاتِ اقدس آپ کی نامِ والا مصطفیٰ خیر الوریٰ تاج والے سر جُھکاتے ہیں جہاں آستاں وہ آپ کا خیر الوریٰ انبیاء ہیں مُقتدی بن کر کھڑے ہیں اِمام الانبیاء خیر الوریٰ وہ خدا کا ہوگیا […]

سر جُھکا لو احمدِ مختار کا ہے تذکِرہ

غم کے مارو مُونِس و غمخوار کا ہے تذکِرہ رِفعتیں بخشی ہیں مولیٰ نے نبی کے ذکر کو ہر زباں ہر دور میں سرکار کا ہے تذکرہ عندلیبانِ چمن ہیں آج محوِ اِلتِفات رب کے پیارے کی حسیِں گُفتار کا ہے تذکرہ مُنہ چُھپاتے ہیں مہ و خورشید بھی اب چرخ پر قُدسیوں میں شاہ […]

ہے مدینے سے مرے قلب کا رشتہ محفوظ

یا خدا رکھنا سدا میرا اثاثہ محفوظ خواب میں کاش کہ میں جلوۂ زیبا دیکھوں دل میں رکْھی ہے یہی ایک تمنا محفوظ جب سے سرکارِ مدینہ کا ہے روضہ دیکھا باغِ فردوس کا ہے دل میں یہ نقشہ محفوظ حُبِْ شیخین رہے دل میں مرے پیوستہ آل و اصحاب کی اُلفت کا خزانہ محفوظ […]

بُلا لیجے مجھے پھر یا نبی دارِ فضیلت میں

کرم سے ہو مری پھر حاضری دارِ فضیلت میں فرشتے رات دن بہرِ سلام آئیں اُسی در پر شبانہ روز ہے رونق لگی دارِ فضیلت میں مُرادوں سے وہاں دامن بھرے جاتے ہیں منگتوں کے عطا سائل کو مُنہ مانگی مِلی دارِ فضیلت میں شہِ کونین کے جُود و کرم کا واہ کیا کہنا نہیں […]

نورِ کون و مکاں یا شہِ انبیاء

زیبِ عرش و جناں یا شہِ انبیاء حامئ بے کساں یا شہِ انبیاء راحتِ عاشقاں یا شہِ انبیاء نورِ ربّ العلیٰ بات وحئ خدا نام ہے مصطفیٰ یا شہِ انبیاء آپ کے ذکر کا بول بالا ہُوا واہ رِفعتِ شاں یا شہِ انبیاء چاند ٹکڑے ہُوا خور اُلٹا پھرا خوب تاب و تواں یا شہِ […]

سرورِ عالم شہِ ذی شاں نظر بر حالِ من

مُشکلیں کیجے مری آساں نظر بر حالِ من نخلِ ایماں کو مرے آقا عطا ہو تازگی اِس پہ برسے لُطف کا نِیساں نظر بر حالِ من اے مرے سرکار میری التجا مقبول ہو دیکھ لوں میں بھی رُخِ تاباں نظر بر حالِ من فُرقتِ طیبہ سے آقا دل میرا غمگین ہے درد کا ہو اب […]

طیبہ کی یاد جانے کہاں لے گئی مجھے

شاید جہاں سے آئی ، وہاں لے گئی مجھے روح الامیں جہاں نہ گئے میری فکرِ نعت پرواز کرتے کرتے وہاں لے گئی مجھے یادِ مدینہ وادئ کیف و سرور میں کر کے زمانے بھر سے نہاں لے گئی مجھے نسبت مکینِ گنبدِ خضرٰی کی حشر میں عزت کے ساتھ سوئے جِناں لے گئی مجھے […]

حضورِ عالی کی مدحت کا لطف لیتا ہوں

میں دور ہو کے بھی قربت کا لطف لیتا ہوں مدینہ پاک تصور میں جب سے بیٹھ گیا میں وقفے وقفے سے جنت کا لطف لیتا ہوں مرے مزاج کی رونق ہے یادِ شہرِ نبی طبیعتًا میں نفاست کا لطف لیتا ہوں غلامِ شاہ سمجھ کر کوئی حقیر کہے قسم خدا کی حقارت کا لطف […]

نعت لکھتے ہوئے اِک مدحً سرا کیف میں ہے

کوچہِ دل کی فضا یعنی جدا کیف میں ہے میرے نسخے میں تری دید لکھی ہے گویا مجھ سے پہلے مرا مکتوبِ شفا کیف میں ہے آپ آئیں تو کہے گا مرے بارے میں جہاں یہ وہ خوش بخت ہے جو وقتِ قضا کیف میں ہے دل ہے سرشار ترا ہو کے مرے بندہ نواز […]