اُس ایک نام کو دل میں بسائے پھرتے ہیں

ہم اپنے آپ میں محفل سجائے پھرتے ہیں اس ایک جلوۂ بے مثل کی تمنا میں درود پڑھتے ہیں ، آنکھیں بچھائے پھرتے ہیں کڑی ہے دھوپ مگر ترے چاہنے والے ترے کرم سے ، ترے سائے سائے پھرتے ہیں گُدازِ عشقِ محمد جنہیں نصیب نہیں وہ لوگ سینے میں پتھر اٹھائے پھرتے ہیں انہیں […]

نئی منزلوں کا پیامبر ، ترے راستوں پہ سفر مرا

تری آرزو مری زندگی ، تری جستجو ہے ہُنر مرا مری خواہشوں کے جہان میں کئی واہمے تھے کبھی ، مگر جو ہر اک گمان کو رَد کرے ، وہ یقین ہے گُلِ تر مرا دلِ نور دیدۂ آشنا ، مہ و مہر ہیں ترا نقشِ پا ترے عشق میں ہے غزل سرا ، یہ […]

رکھے ہیں غمِ جاں سے کئی حرف بچا کر

لکھوں گا انہیں نعت میں الفاظ بنا کر فرقت کے یہ دن بیت ہی جائیں گے کسی دن سرکار نوازیں گے مجھے پاس بُلا کر اک اشک ڈھلکتا ہے مرے دیدۂ تر سے اک درد دھڑکتا ہے مرے دل میں سما کر گنبد کا حسیں عکس مرے پیشِ نظر ہے بیٹھا ہوں نئی نعت کا […]

حکم خالق کا سُنا ، سر کو جھکا کر آیا

اپنی بخشش کے لیے آپ کے در پر آیا روشنی پھیل گئی خاک سے افلاک تلک جب تصور میں ترا چہرۂ انور آیا صحنِ گلشن میں یہ خوشبو کبھی پہلے تو نہ تھی میں نے پہچان لیا ، میرا گُلِ تر آیا ذہنِ آوارہ مجھے اور طرف لے کے چلا پھر بھی ہونٹوں پہ ترا […]

ملیں گے لعل و گہر جانتے ہیں

مدینے کے گداگر جانتے ہیں ہر اک منزل ہے اُن کے راستے میں زمانے اُن کو رہبر جانتے ہیں سفر سدرۃ سے آگے کا ہے کیسا فقط میرے پیمبر جانتے ہیں جنہیں ابلیس نے بہکا دیا وہ انہیں اپنے برابر جانتے ہیں رہِ طیبہ میں سب اہلِ محبت ہر اک ذرے کو اختر جانتے ہیں […]

سرمایۂ افکار ، عطائے شہہِ والا

پیرایۂ اظہار ، عطائے شہہِ والا یہ چشمِ گہر بار ، غریبوں کا اثاثہ یہ چشمِ گہر بار ، عطائے شہہِ والا یہ لمحۂ دیدار ، حصولِ شبِ ہجراں یہ لمحۂ دیدار ، عطائے شہہِ والا یہ طالعِ بیدار کہ دل محوِ ثنا ہے یہ طالعِ بیدار ، عطائے شہہِ والا وہ گنبد و مینار […]

خاک در خاک ہوں ، ہمدوشِ ثریا کر دے

جذبِ صادق! مجھے اُس راہ کا ذرہ کر دے معجزہ یہ بھی ترا جلوۂ زیبا کر دے آںکھ کو بابِ حرم ، دل کو مدینہ کر دے اک ترا نام کہ ظُلمت میں اُجالا کر دے اک ترا ذکر کہ بیمار کو اچھا کر دے گرشِ شمس و قمر راہ بدل سکتی ہے پیکرِ نور […]

جب اپنے نامۂ اعمال پر مجھ کو ندامت ہو

بروزِ حشر ، حامی آپ کی شانِ شفاعت ہو دلِ بے آرزو میں صرف اُن کی آرزو ٹھہرے خیالِ غیر رُخصت ہو ، تمناؤں کو حیرت ہو یہ دل روئے تو روئے گُنبدِ خضریٰ کی فرقت میں محبت ہو تو اُس شہرِ محبت سے محبت ہو کسی دن میں ، کسی شب میں مری قسمت […]

کرن کرن اُس رُخِ منور کا معجزہ ہے

تمام خوشبو ، اُسی گلِ تر کا معجزہ ہے زہے مقدر ، نشانِ منزل تک آ گیا ہوں مرا سفر ، نقشِ پائے رہبر کا معجزہ ہے مرا قلم موتیوں سے الفاظ لکھ رہا ہے یہ معجزہ ، رحمتوں کے ساگر کا معجزہ ہے بصارتوں نے جہاں میں جتنا بھی حُسن دیکھا جمالِ ذاتِ خدا […]

تیری محفل سجانا مرا کام ہے، اس میں تشریف لانا ترا کام ہے

نعت سننا، سنانا مرا کام ہے بخشنا، بخشوانا ترا کام ہے دین و ایمان کی اور قرآن کی، الفتِ جانِ جاں، جانِ ایمان کی دل میں شمع جلانا مرا کام ہے آندھیوں سے بچانا ترا کام ہے کوئی دآتا جہاں بھر میں تجھ سا کہاں، کوئی محتاج دنیا میں مجھ سا کہاں در پہ جھولی […]