اُس ایک نام کو دل میں بسائے پھرتے ہیں
ہم اپنے آپ میں محفل سجائے پھرتے ہیں اس ایک جلوۂ بے مثل کی تمنا میں درود پڑھتے ہیں ، آنکھیں بچھائے پھرتے ہیں کڑی ہے دھوپ مگر ترے چاہنے والے ترے کرم سے ، ترے سائے سائے پھرتے ہیں گُدازِ عشقِ محمد جنہیں نصیب نہیں وہ لوگ سینے میں پتھر اٹھائے پھرتے ہیں انہیں […]