طُرفہ انداز لیے اُن کے کرم کی صورت
باقی رہنے ہی نہیں دیتی ہے غم کی صورت صورتِ ابرِ مطیرہ ہے ترا دستِ عطا حرف تجسیم کریں کیسے نِعَم کی صورت ویسے تو شہرِ مدینہ ہے تمثل سے ورا بہرِ تفہیم لکھوں رشکِ ارَم کی صورت آنکھ تو جیسے ترے نعلِ ضیا بار کا نقش دل کو تصویر کریں زُلف کے خَم کی […]