حسرت سے کھُلے گا نہ حکایت سے کھُلے گا
اب بابِ اثر صیغۂ مدحت سے کھُلے گا ممکن نہیں حرفوں کے تواتر سے وہ اُبھرے وہ اسمِ کرم موجۂ نکہت سے کھُلے گا دیکھیں گے ارَم جا کے مدینے کی گلی میں حیرت کا جہاں کوچۂ حیرت سے کھُلے گا معراج نے بخشے ہیں نئے شوقِ ترفّع افلاک کا در آپ کی رفعت سے […]