حروفِ عجز میں لپٹے ہوئے سلام میں آ
اے میری خواہشِ باطن مرے کلام میں آ اُداسی دل کے دریچوں سے جھانکتی ہے تجھے بس ایک لمحے کو تو حیطۂ خرام میں آ تو میرے قریۂ جاں میں اُتار صبحِ نوید تو میرے عجز گھروندے کی ڈھلتی شام میں آ ہزار عرض و جتن کی ہے ایک ہی تدبیر تو آ، زمانوں کے […]