نُطق کا ناز بنے، کیف سے معمور ہُوئے
لفظ جب مدحتِ سرکار میں منظور ہُوئے یاد کے دستِ تسلی نے عنایت کر دی سلسلے خواب کے جب بھی مرے، رنجُور ہُوئے آپ کے خطبۂ عرفات کا پرتو ٹھہرے اشرفِ خَلق کی عظمت کے جو منشور ہُوئے وسعتِ بُردۂ رحمت نے رکھی عجز کی لاج عیب جتنے بھی نمایاں تھے وہ مستُور ہُوئے نسبتِ […]